صومالیہ: امریکی ڈرون حملے میں الشباب کا چوٹی کا دہشت گرد ہلاک

Source: S.O. News Service | Published on 10th March 2020, 11:48 AM | عالمی خبریں |

 نیویارک،10؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) امریکی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ کیے گئے ایک ڈرون حملے میں الشباب کے چوٹی کے سرغنے کے ہلاک ہونے کا امکان ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، امریکی فوج کی افریقی کمان کے ترجمان، کرنل کرس کارنز نے بتایا کہ امریکی فضائیہ نے یہ ڈرون حملہ 22 فروری کو کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ''عام خیال یہی ہے کہ بشیر محمد محمود عرف بشیر قورقاب ہلاک ہوئے''۔یہ ڈرون حملہ صومالیہ کے وسطی جبہ کے علاقے میں ساکو کے قصبے میں ہوا۔

الشباب کے جبہت (حربی) گروپ کے کمانڈروں میں قورقاب کو سخت جان اور لڑائی میں آزمودہ خیال کیا جاتا تھا۔ ماضی قریب میں قورقاب نے الشباب کے تین جبہت یونٹوں کی قیادت کی تھی، جن میں سے ایک کینیا میں سرگرم تھا، جس میں بدنام زمانہ جیش ایمن کا یونٹ بھی شامل ہے، جو مندا بے کے خطے میں سرگرم رہا ہے۔

کارنز نے وائس آف امریکہ کو بتایا یہ ''پیش رفت کا معاملہ ہے۔ اس دہشت گرد کے خاتمے سے افریقی اور امریکیوں کو ملنے والی دھمکیاں کسی حد تک کم ہوجائیں گی اور ہمارے یکساں دشمن کو ایک واضح پیغام گیا ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کا کاروبار کرنا اور افریقی پارٹنرز، امریکیوں اور بین الاقوامی ساتھیوں کو نقصان پہنچانا تھا''۔

امریکی فوج کی افریقی کمان نے 25 فروری کو رپورٹ دی تھی کہ الشباب کا ایک سینئر رہنما جس نے 5 جنوری کو مندا بے میں حملہ کیا تھا، اسے ساکو کی فضائی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ رہنما کی بیوی بھی ہلاک ہوئی ہے، جو خود بھی اس دہشت گرد گروپ کی رکن تھیں۔

قورقاب کی بیوی کے ایک رشتے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خاتون کے ساتھ ان کا شوہر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

پانچ جنوری کو الشباب کے دہشت گرد کینیا کے ایک فوجی اڈے کے اندر گھس آئے تھے، جسے مندا بے میں تعینات امریکی افواج استعمال کرتی ہیں، جس میں ایک امریکی فوجی اور دو امریکی کانٹریکٹر ہلاک ہوئے تھے۔ عسکریت پسندوں نے چھ طیارے بھی تباہ کیے۔

ایک صومالی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا ہے کہ یہ حملہ جیش ایمن نے کیا، حالانکہ حملہ آوروں میں الشباب کے کمانڈو یونٹوں میں سے ایک شامل ہو سکتا ہے۔

حالانکہ قورقاب کینیا میں دہشت گرد کارروائیوں کا سرغنہ تھا اور اسی قسم کی دہشت گردی تنزانیہ جیسے ملکوں تک پھیلانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ یہ بات عبد الرحیم عیسیٰ ادوو نے بتائی ہے، جو اسلامی شریعہ کے ایک سابق اہلکار ہیں اور قورقاب سے واقف ہیں۔

ادوو نے بتایا کہ قورقاب الشباب کا اعلیٰ ترین رہنما نہ سہی، وہ الشباب عسکریت پسندوں کے حلقے میں اہمیت کا حامل تھا۔

قورقاب کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر تھی، جب کہ الشباب کے موجودہ رہنما احمد دریے ابو عبیدہ کے سر کی قیمت بھی 50 لاکھ ڈالر مقرر ہے۔

ایک نظر اس پر بھی