خواتین اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں ایک اور بابا گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd August 2019, 11:34 AM | ملکی خبریں |

گروگرام،22؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)  ہندوستان کے کئی مشہور و معروف بابا خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور نابالغوں کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری کے الزام میں یا تو گرفتار کر لیے گئے ہیں یا پھر انھیں گرفتار کرنے کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ بابا رام رحیم اور آسا رام باپو اس فہرست میں سب سے ’بڑے بابا‘ ہیں اور اب اس فہرست میں ہریانہ کے ایک اور بابا کا نام جڑ گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ہریانہ کے گروگرام میں بہیڑا کلا گاوں کے بابا جیوتی گری مہاراج کئی خواتین کے ساتھ جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ہیں اور اس کے خلاف شکایت بھی درج کرا دی گئی ہے۔

خبروں کے مطابق جیوتی گری مہاراج کے کئی فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پولس نے شکایت درج کر لیا ہے اور اب گرو گرام پولس کی سائبر سیل ویڈیو کی جانچ کر رہی ہے۔ وائرل ہوئے ویڈیو میں قابل اعتراض حالت میں جیوتی گری مہاراج صاف نظر آ رہے ہیں اور کچھ میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ ویڈیو کلپ موجود ہے۔

بابا جیوتی گری مہاراج کا فحش ویڈیو سامنے آنے کے بعد گروگرام میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور نام نہاد بابا اپنے آشرم سے فرار بتایا جا رہا ہے۔ اس بابا پر الزام ہے کہ آشرم میں آنے والی خواتین اور بچیوں کے ساتھ وہ جبراً جسمانی رشتہ قائم کرتا تھا اور اب تک درجنوں بچیوں کا وہ جنسی استحصال کر چکا ہے۔ اس معاملے میں شکایت کرنے والی خاتون بھی ایک متاثرہ ہے جس نے پولس میں شکایت درج کی ہے۔ شکایت کی کاپی قومی خاتون کمیشن اور ہریانہ خاتون کمیشن کو بھی بھیج دی گئی ہے۔

بابا کا خواتین کے ساتھ فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا ہے۔ چونکہ ان ویڈیوز میں متاثرہ خاتون کا چہرہ صاف نظر آ رہا ہے اس لیے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دراصل آئی ٹی قانون کے تحت کسی خاتون کے وقار کو ٹھیس پہنچانا بھی غلط ہے اور ویڈیو وائرل ہونے سے متاثرہ کی بدنامی ہوگی۔ یہی سبب ہے کہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے والوں کے خلاف بھی معاملہ درج ہوا ہے۔

ملزم بابا جیوتی گری مہاراج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے آئی اے ایس تھا اور اس کے بعد بیراگی بن گیا۔ حالانکہ اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ملک بھر کے کئی مقامات پر بابا جیوتی گری مہاراج کے آشرم موجود ہیں۔ ہریانہ میں یہ بابا گﺅشالہ بھی چلاتا ہے۔ اس کے علاوہ اجین، کاشی، گروگرام اور ہری دوار میں بھی اس کا آشرم موجود ہے۔ جب لوگوں کو بابا کے ویڈیو اور اس کے کارناموں کے بارے میں پتہ چلا تو وہ بڑی تعداد میں تھانہ پہنچے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بابا کے آشرم کو بھی بند کیا جائے۔ حالانکہ پولس نے آشرم کو فی الحال بند نہیں کیا ہے۔ لیکن ناراض لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک اس آشرم کو بند نہیں کیا جاتا اور فرار بابا کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، اس وقت تک وہ اپنا احتجاج درج کراتے رہیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

عمران حسین، جنہوں نے نوجوان لیڈر کے طور پر اپنی پہچان بنائی

 عام آدمی پارٹی کے بلیماران اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی عمران حسین کالج کے دنوں سے ہی سماج کے مظلوم اور محروم طبقے کے درمیان بیداری پھیلانے میں سرگرم رہے اور ضرورت مند لوگوں کو سماجی انصاف دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔

گوپال رائے نے ’آزادی کے شہیدوں‘ کے نام پر حلف لیا

دہلی کے رام لیلا میدان میں اروند کجریوال نے اپنی پوری کابینہ کے ساتھ تیسری بار حلف لیا۔ کجریوال کے ساتھ دہلی حکومت کے چھ وزراء نے بھی حلف اٹھا لیا۔ جن میں منیش سسودیا، ستیندر جین، گوپال رائے، کیلاش گہلوت، عمران حسین، راجندر پال گوتم شامل ہیں۔ یہ تمام پچھلی حکومت میں بھی وزیر ...

اروند کجریوال تیسری مرتبہ بنے وزیر اعلیٰ، دہلی کو آگے بڑھانے کے لئے  پی ایم کا آشیرواد چاہتا ہوں

اروند کجریوال نے اتوار کو تیسری بار دہلی کے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا۔ ان کے بعد منیش سسودیا، ستیندر جین، گوپال رائے، کیلاش گہلوت، عمران حسین اور راجندر پال گوتم نے وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔

جامعہ: لائبریری میں پڑھ رہے طلباء پر پولیس نے کی تھی بربریت، ویڈیو سے انکشاف

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 15 دسمبر 2019 کو پولیس کی طرف سے کی گئی بربریت سے متعلق ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی طرف سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ پولیس لائبریری میں موجود ان طلباء کو زد و کوب کر رہی ہے جو وہاں مطالعہ کر رہے تھے۔ جامعہ کوآرڈینیشن ...