جے این یوطلبہ کے خلاف کارروائی: اپوزیشن نے حکومت کوگھیرا، بی جے پی کا جوابی حملہ

Source: S.O. News Service | Published on 19th November 2019, 9:49 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،19نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) فیس اضافہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علموں پر پولیس کارروائی کو لے کر راجیہ سبھا کی کارروائی منگل کومتاثرہوئی۔اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے ایک جمہوری تحریک کو دبانے کے لیے مودی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ پرتنقیدکی۔اگرچہ، حکمران بی جے پی کے لیڈروں نے شک ظاہرکیا۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ جے این یوکو شہری نکسل واد کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے ایک نیوز چینل سے کہاہے کہ جے این یو میں جو کچھ ہورہاہے۔اس کے لیے ہاسٹل فیس اضافہ ایک بہانہ ہے۔کچھ لوگ جے این یو کو شہری نکسل واد کا مرکزبنانا چاہتے ہیں۔یہ وہی جے این یو ہے جہاں بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے کے نعرے لگے تھے اورجہاں افضل گرو کی برسی منائی گئی تھی۔آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے طالب علموں کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ ایسا پہلی بار ہواہے جب یونیورسٹی کے طالب علموں کو ان کے مناسب مطالبات کو اٹھانے کے لیے وحشیانہ طورپرپیٹا گیا۔سنگھ نے کہاہے کہ یہ وہی دہلی پولیس ہے جو یہ شکایت کر رہی تھی کہ وکلاء کی طرف سے حملہ کیے جانے کے بعد ان کی وردی پر سوال اٹھاہے۔قومی دارالحکومت میں مظاہرین جے این یو طالب علموں پر مبینہ پولیس کارروائی اور جموں و کشمیر میں رہنماؤں کی حراست کو لے کر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی کو ملتوی کردیاگیا۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ طالب علموں پر پولیس فورس کا استعمال وحشیانہ ہے۔انہوں نے کہاہے کہ مودی حکومت اور جے این یو انتظامیہ کو یہ سمجھنا چاہییکہ طالب علم نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی کمیونٹی کے مستقبل کے لیے بھی لڑ رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ریپ کے معاملے پرسوال سے بھاگ جانے والے سشیل مودی نے زبان کھولی،راہل کو چیلنج کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، اپنے آپ پر اعتماد کرو، اپنے حقیقی نام پر الیکشن لڑو

پٹنہ سیلاب کے موقعہ پربھاگ جانے والے اورریپ کے واقعے پرسوال سے فرارہوجانے والے نائب وزیراعلیٰ سوشیل کمارمودی کی زبان راہل گاندھی پرکھل گئی ہے۔بے چارے نے ان معاملات پرچپی کے بعدکچھ توبولاہے۔