ریاست بھر میں اسکولس کھل گئے۔9ویں تا 12ویں کے کلاسس بحال

Source: S.O. News Service | Published on 24th August 2021, 11:27 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،24؍اگست(ایس او  نیوز) ریاست بھر میں کورونا وائرس کے خوف سے ڈیڑھ سال پہلے بند ہو نے والے اسکولس پیر سے دوبارہ کھل گئے۔9ویں تا 12ویں جماعت کے طلباء کے لئے باقاعدہ کلاسس کی شروعات کی گئی۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے سخت کووِڈ ضابطہ کے ساتھ شروع کئے گئے کلاسس میں پہلے روز 9ویں جماعت کے 19فیصد،10ویں جماعت کے 21فیصد اور پی یو سی سال دوم کے 32فیصدطلباء نے حاضری دی۔ چونکہ ان کلاسس میں طلباء کی حاضری لازمی نہیں ہے، اس لئے پہلے دن یہ کافی کم رہی، ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حاضری کے اوسط میں اضافہ ہو۔

وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اسکول کھل جانے کے سبب شہر کے مختلف اسکولوں کا دورہ کیا اور طلباء کے حوصلے بڑھائے۔اس موقع پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر بومئی نے کہا کہ اسکول اور کالج کھل جانے سے بچوں کو گویا آزادی مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کالج کھل جانے سے انہیں کافی مسرت ہوئی ہے۔ اتنے دنوں تک بچے گھروں میں قید رہے اور کورونا کے خوف سے پریشان رہے،اب ساتھی طلباء کے ہمراہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسکولس کھول دئیے جانے کے بعد حکومت کافی گہرائی سے نظر رکھے گی، اگر کووِڈمعاملات میں اضافہ ہو تا ہے تو حکومت اس فیصلہ پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے سرحدی اضلاع میں اگر کووِڈ کی پازیٹیویٹی شرح 2فیصد سے کم ہو تی ہے تو وہاں بھی اسکولس اور کالجس کھول دئیے جائیں گے۔ انہوں نے توقع کی کہ ان اضلاع میں بھی ایک ہفتہ کے دوران شرح میں کمی آ سکتی ہے، اس کے بعد حکومت فیصلہ لے گی۔

پرائمری اسکولس کھولنے کے بارے میں مسٹر بومئی نے کہاکہ انہوں نے ریاست کی تکنیکی مشاورتی کمیٹی سے گزارش کی ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کو ایک رپورٹ پیش کرے۔ رواں ماہ کے آخر میں اس کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی ہے جس میں طے کیا جائے گا کہ پرائمری اسکولس کھولنے کے لئے کونسا طریقہ کار اپنایا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے ریاست بھر میں اسکولس بند تھے،اس مدت کے دوران طلباء کوتعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے متعدد تجربات کئے گئے۔کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 16-17دن پہلے ہی اسکولس کھولنے کے بارے میں فیصلہ لیا جا چکا تھا لیکن تیاریاں کرنے کے لئے تمام کو وقت دیا گیا۔اس دوران ریاستی وزیر برائے بنیاد ی وثانوی تعلیم بی سی ناگیش نے شہر کے شیواجی نگر میں وی کے عبید اللہ اسکول کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ ریاست بھر میں حکومت نے 9ویں سے12ویں جماعت کے لئے کلاسس کا آغاز کیا ہے تو والدین اور طلباء نے کافی جوش وخروش کا مظاہرہ کیا ہے،اس کے ساتھ ہی تدریسی سرگرمیوں کی باقاعدہ بحالی پر اساتذہ میں بھی کافی جوش پایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی سخت کووِڈ ضابطہ کی پابندیوں کے ساتھ ریاست میں تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے گا۔

حکومت نے واضح کردیا ہے کہ کسی بھی اسکول میں اگر دو یا اس سے زیادہ بچوں کو کووِڈ ہو گیا تو اس اسکول کو ایک ہفتہ کے لئے بند کردیا جائے گا اور مکمل سینی ٹائز کرنے کے بعد ہی انہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی حال میں اسکول میں حاضری کے لئے بچوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو: محض 3 سال میں جھکی پولیس رہائش گاہ کی عمارت، 32 خاندانوں کو محفوظ نکالاگیا

بنگلورو میں پولیس کی رہائش کیلئے بنائی گئی عمارت صرف تین سالوں میں خستہ حالت میں پہنچ گئی ہے۔ صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ تہہ خانے میں کئی دراڑیں آ گئی ہیں اور عمارت نے ایک طرف جھکاؤ بھی شروع کر دیا ہے۔

بی جے پی کی مدد کرنے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے: ضمیر احمد خان 

رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے جے ڈی ایس  پر الزام لگایا ہے کہ 30 ؍ اکتوبر کو سندگی ہانگل اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کے مقصد سے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

کلبرگی کے چنچولی میں زلزلوں کے جھٹکوں سے خوفزدہ لوگ گاؤں چھوڑنے پر مجبور۔شمالی کرناٹک میں زلزلوں کی وجہ ’’ہائیڈرو سسمسیٹی‘‘، این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں انکشاف

شمالی کنڑا کے بیدر اور کلبرگی ضلع میں سلسلہ وار زلزلے درحقیقت ’’ہائیڈ رو سسمسیٹی‘‘ ( زمین کے اندر پانی کے دباؤ کاعمل  ) کا معاملہ ہے جو مانسون کے بعد ہوتا ہے ۔ یہ انکشاف این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں ہوا ہے ۔

آئی ٹی کے دھاوے سیاسی تھے، کانگریس کے ساتھ کام کرنے پر نشانہ بنایا گیا ؛ انتخابی مہم کی کمپنی کا دعویٰ

بنگلورو میں محکمہ آئی ٹی کی جانب سے جس ڈیزائن با کسڈ‘‘ نامی کمپنی پر حال ہی میں دھاوا کیا ، اس کے منیجنگ ڈائرکٹر نریش اروڑا نے مرکزی محکمہ کو نشانہ بناتے ہوئے  کہا کہ یہ دھاوے واضح طور پر سیاسی تھے اور آئی ٹی عہد یداروں کو دھاوؤں کے دوران کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔