توہین عدالت معاملہ :پرشانت بھوشن قصوروار قرار،20 اگست کو سماعت

Source: S.O. News Service | Published on 14th August 2020, 10:09 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے اور چار سابق چیف جسٹس کے خلاف توہین آمیز ریمارکس معاملہ میں معروف وکیل پرشانت بھوشن کو سزا سنائی۔

جسٹس ارون مشرا،جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس کرشن مراری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنا حکم سنایا کہ بھوشن کو توہین عدالت کا قصوروار قراردیا جاتا ہے۔ بنچ کی جانب سے جسٹس گوئی نے ایک مختصرحکم سناتے ہوئے کہا ”بھوشن کو توہین عدالت کا مرتکب پایا گیا ہے۔ عدالت 20 اگست کو ان کی سزا سنائے گی“۔

خیال رہے بنچ نے 5 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ کررکھ لیا تھا۔ عدالت نے ٹوئٹر پر بھوشن کے دو توہین آمیزریمارکس پر عدالت نے 9 جولائی کو توہین عدالت کا معاملہ دائر کیا تھا اور 22 جولائی کو انہیں نوٹس جاری کیا تھا۔ ٹوئٹر نے اس معاملہ سے اپنا دامن بچاتے ہوئے بھوشن کے قابل اعتراض ٹوئٹس کو ہٹادیا تھا اورعدالت سے معافی مانگ لی تھی۔

پرشانت بھوشن عدلیہ پر مسلسل حملہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کووڈ 19 وبا کے دورمیں مہاجرمزدوروں کی حالت زار سے متعلق درخواستوں پر اعلی عدالت کے فیصلوں پرسخت تنقید کی تھی۔یہ معاملہ 27جون کے اس ٹویٹ سے متعلق ہے جس میں بھوشن نے لکھاتھا”جب مستقبل کا مورخ یہ دیکھنے کیلئے گزشتہ چھ سال پر نظر ڈالے گا کہ کیسے ایمرجنسی کے سرکاری اعلان کے بغیر ہندوستان میں جمہوریت کو کچل دیا گیا تو وہ اس بربادی میں عدالت عظمیٰ کے رول کا خاص ذکر کرے گا اور خاص کر گزشتہ چار چیف جسٹس کے کردارکا“۔

ایک نظر اس پر بھی

قومی سطح کی سرکاری ایجنسیوں کے بے جا استعمال کی ایک اور بدنما مثال، بنگلوروکے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کی جانچ این آئی اے کے سپرد

بنگلورو کے دیو رجیون ہلی اور کاڈو گنڈنا ہلی علاقوں میں 11/اگست کی شب ایک توہین آمیز فیس بک پوسٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی جانچ کو کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردیا ہے۔

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...