فوج میں خواتین کو مستقل کمیشن: احکامات کی عمل آوری کے لئے مرکز کو ایک ماہ کی مہلت

Source: S.O. News Service | Published on 7th July 2020, 9:32 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،7؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے ہندوستانی فوج میں خواتین افسران کو مستقل کمیشن اور کمانڈ پوسٹ سے متعلق اپنے احکامات کو نافذ کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو مزید ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے منگل کے روز مرکزی حکومت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے ایک ماہ کی مہلت دی۔ عدالت نے اس بار کورونا بحران کے پیش نظر یہ وقت دیا ہے۔ وزارت دفاع کے توسط سے مرکزی حکومت نے عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی مہلت کی درخواست کی تھی۔

اس سے قبل سماعت کے دوران وزارت دفاع کی جانب سے پیش سینئر وکیل بالا سبرامنیم نے کہا کہ عدالت کے گزشتہ 17 فروری کے احکامات پر عمل درآمد کا فیصلہ آخری مراحل میں ہے۔ سبرامنیم نے بنچ کو بتایا کہ آفس آرڈر کسی بھی وقت جاری کیا جاسکتا ہے، لیکن کورونا کے پیش نظر مزید وقت دیا جانا چاہیے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دفاتر بند رہے تھے اور ملازمین کی حاضری کم تھی، لہذا عدالت کی جانب سے دیئے گئے تین ماہ کے عرصے میں اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ بنچ نے خواتین فوجی افسران کی جانب سے پیش مینا کشی لیکھی سے پوچھا کیا سرکار کو مزید وقت دیاجانا چاہیے؟ اس پرمینا کشی لیکھی نے کہا کہ وقت دیا جاسکتا ہے لیکن اعلیٰ عدالت کو خود اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔

خیال ر ہے کہ عدالت عظمیٰ نے 17 فروری کو اپنے حکم میں کہا تھا کہ تین ماہ کے اندر تمام خواتین افسران جو اس آپشن کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں، انہیں فوج میں مستقل کمیشن دیا جانا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز کی اس دلیل کو افسوسناک قراردیا تھا جس میں خواتین کو کمانڈ پوسٹ نہ دینے کے پیچھے جسمانی صلاحیتوں اور سماجی اقدار کا حوالہ دیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ: آندھرا کے خلاف تلنگانہ حکومت پہنچی سپریم کورٹ

 تلنگانہ حکومت اے پی حکومت کے رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی۔ حکومت نے عدالت عظمی سے خواہش کی کہ وہ اس پروجیکٹ کے احکام منسوخ کرے اور ٹنڈر کے عمل کو بھی روکا جائے۔

جموں۔کشمیرمیں آرٹیکل 370 کے خاتمہ کا ایک سال مکمل، ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نےاحتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام کرنے اور دیگر کئی اہم اقدامات نفاذ کرنے کےحکومت کے فیصلےکو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کشمیر میں احتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کردی ہے۔ تاہم ممبئی میں مقیم کشمیری طالب علم ...

کشمیر میں دوسرے روز بھی کرفیو جیسی پابندیاں

انتظامیہ کی جانب سے کرفیو ہٹائے جانے کے اعلان کے برعکس وادی کشمیر بالخصوص ضلع سری نگر کے تمام علاقوں میں بدھ کے روز بھی سخت ترین پابندیاں عائد رہیں اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ان کی گاڑیوں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔