الہ آباد ہائی کورٹ کو ڈاکٹر کفیل کی عرضی 15 دنوں میں نمٹانے کا حکم

Source: S.O. News Service | Published on 11th August 2020, 11:21 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) 'ورچوئل سماعت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ہم نے اس کے بارے میں مہابھارت میں بھی سنا ہے'۔ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ منگل کے روز اس وقت کیا گیا جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں متھرا جیل میں قید ڈاکٹر کفیل خان کی درخواست کی سماعت ہورہی تھی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی سربراہی میں بنچ نے ڈاکٹر کفیل کی حراست کے معاملے میں ان کی والدہ نزہت پروین کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کو یہ معاملہ 15 دنوں میں نمٹانے کرنے کا حکم دیا۔

جب چیف جسٹس نے یہ ہدایت دی تو درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر ایڈوکیٹ اندرا جیے سنگھ نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے حکم میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کا ذکر کریں۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ "انہیں کسی بھی طرح سے سماعت کرنے دیجیے۔ اس کا مطلب ویڈیو (کانفرنسنگ) بھی ہے۔ آپ بھی اسی طرح پیش ہو رہی ہیں"۔

چیف جسٹس نے آگے ہلکے لہجے میں کہا کہ “ورچوئل سماعت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے مہابھارت کے دور میں بھی اس طرح کے واقعے کے بارے میں سنا ہے"۔ اس پر جیے سنگھ نے مسکرا کر کہا کہ" مجھے اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے، لیکن میں وبا کے دنوں کے بارے میں جانتی ہوں۔" جسٹس بوبڑے نے کہا کہ "نہیں، نہیں۔ اس طرح کی پیشی سنجے نے کی ہے"۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو 10 فروری کو ضمانت مل گئی تھی، لیکن انھیں رہا نہیں کیا گیا تھا، اس کے تین دن کے بعد ان پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت الزامات لگائے گئے تھے۔ ڈاکٹر کفیل خان کو پہلے علی گڑھ جیل میں رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں متھرا جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

قومی سطح کی سرکاری ایجنسیوں کے بے جا استعمال کی ایک اور بدنما مثال، بنگلوروکے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کی جانچ این آئی اے کے سپرد

بنگلورو کے دیو رجیون ہلی اور کاڈو گنڈنا ہلی علاقوں میں 11/اگست کی شب ایک توہین آمیز فیس بک پوسٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی جانچ کو کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردیا ہے۔

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...