یو جی سی امتحانات معاملے میں سماعت جمعہ تک ملتوی

Source: S.O. News Service | Published on 11th August 2020, 12:29 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز حکومت سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی ہدایت کو متاثر کر سکتا ہے؟ ۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے معاملے کی سماعت 14 اگست تک ملتوی کردی ۔

جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل بنچ نے کووڈ 19 وبا کے مدِ نظر یونیورسٹیوں کے آخری سال کے امتحانات منسوخ کرنے سے متعلق عرضیوں کی سماعت کے دوران سوالات اٹھائے کہ کیا اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت یو جی سی کا نوٹیفکیشن اور ہدایات منسوخ کی جا سکتی ہیں ۔ اس پر یو جی سی کی جانب سےپیش سالسٹر جنرل تشار مہتا نے جواب کے لئے کچھ وقت مانگا اور بنچ نے سماعت 14 اگست تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران مہتا نے دلیل پیش کہ دہلی اور مہاراشٹر حکومتوں نے اپنے یہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں امتحانات منسوخ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ آخر جب یو جی سی ڈگری دینے کی مجازہے، تو پھر ریاستی حکومت کیسے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے ۔

یو جی سی کی جانب سے 14 اگست کو بتایا جائے گا کہ کیا ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت یو جی سی کی امتحانات کے متعلق نوٹیفکیشن کو منسوخ کرسکتا ہے؟۔

واضح رہے کہ کورونا وبا کے مدِ نظر مختلف کورسوں میں آخری سال کے امتحانات منسوخ کرنے کی مانگ کے تعلق سے کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں ۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ترکی دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھے: ہندوستان

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدررجب طیب اردگان کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ  ٹی ایس ترومورتی نے سخت  احتجاج  کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک  کی خودمختاریکااحترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

قومی سطح کی سرکاری ایجنسیوں کے بے جا استعمال کی ایک اور بدنما مثال، بنگلوروکے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کی جانچ این آئی اے کے سپرد

بنگلورو کے دیو رجیون ہلی اور کاڈو گنڈنا ہلی علاقوں میں 11/اگست کی شب ایک توہین آمیز فیس بک پوسٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی جانچ کو کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردیا ہے۔

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...