سعودی عرب: آرامکو پر حملہ کے بعد یومیہ 30 لاکھ بیرل کی سپلائی متاثر

Source: S.O. News Service | Published on 18th September 2019, 6:36 PM | عالمی خبریں |

نیویارک،18؍ستمبر(ایس او نیوز؍یو این آئی) توانائی کے اعداد و شمار بتانے والے ادارہ ایس اینڈ پی پلیٹس نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملہ کی وجہ سے یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی بند ہوگئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل پلیٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب سے یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی فراہمی ایک ماہ تک متاثر رہے گی۔

خیال رہے کہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ تنصیبات پر حملہ کے بعد دنیا کو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ کابینہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حریفوں کی جانب سے جارحانہ حکمت عملی کا مقصد عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ کا کہنا تھا کہ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔ اس حوالہ سے سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کا کہنا تھا کہ ’’اس سے قطع نظر کہ کون ان حملوں میں ملوث تھا، ہم رد عمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہم نے کسی کا نام نہیں لیا۔‘‘

خیال رہے کہ سعودی عرب نے اپنے ابتدائی بیانات میں الزام عائد کیا تھا کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے تھے۔ سعودی عرب یومیہ 99 لاکھ بیرل تیل نکالتا ہے، جس میں سے وہ یومیہ 70 لاکھ بیرل برآمد کرتا ہے اور ان میں درآمد کنندہ زیادہ تر ایشیائی ممالک ہیں۔ ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب ممکنہ طور پر کہے گا کہ وہ دنیا کو بلا تعطل تیل کی فراہمی جاری رکھے گا تاہم یہ ان کے لئے مشکل ہوسکتا ہے‘‘۔

ادارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی تاخیر کے اشارے میں آئندہ ہفتوں یا مہینوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ ایس اینڈ پی کے مطابق طویل عرصے تک سعودی عرب کے تیل کی بندش کا خطرہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ریاض کے پاس مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے لیے مزید پیداوار کی صلاحیت نہیں ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ آئندہ ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب اپنی تعطل کا شکار ہونے والی پیداوار کا 40 فیصد بحال کردے گا تاہم ماہرین اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوبارہ پہلے جیسے صورتحال میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس عبقیق اور خریس پر ڈرون حملہ کیے گئے تھے۔

ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ عبقیق اور خریس میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔ مذکورہ پلانٹس میں آتشزدگی کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ’ طلب اور رسد‘ میں فرق کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

بعد ازاں امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) نے بتایا تھا کہ خام تیل کی قیمت میں 15.5 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جو 22 جون 1998 کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارہ کے مطابق سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں: امریکی اہلکار 

امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار نے دئے گئے خصوصی بیان میں باور کرایا ہے کہ ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گی۔ذمے دار کا کہنا تھا کہ اب ہمارا مقصد شام میں فائر بندی تک پہنچنا ہے۔