سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی کا ہدف بین الاقوامی رُوٹس اور ٹرانزٹ

Source: S.O. News Service | Published on 5th July 2021, 1:02 PM | خلیجی خبریں |

ریاض، 5؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی کا ہدف بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافر ہیں اور اس سے علاقائی مسابقت میں مملکت کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے آج اتوار کے روز بتائی۔

ایجنسی کے ذرائع کے مطابق نئی سعودی فضائی کمپنی بین الاقوامی رُوٹس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ٹرانزٹ فلائٹس فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔

نئی سعودی فضائی کمپنی کا صدر دفتر ریاض میں ہو گا۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اس کی تاسیس میں مدد کر سکتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے نئی قومی فضائی کمپنی تشکیل دینے کی منصوبہ بندی "نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی" کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد مملکت کو ایک عالمی لاجسٹک مرکز بنانا اور مملکت کی معیشت کو متنوع بنانے میں مدد کرنا ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی میں 250 سے زائد بین الاقوامی فضائی روٹس کا اضافہ اور فضائی کارگو کی گنجائش سالانہ 45 لاکھ ٹن تک پہنچانا شامل ہے۔

سعودی عرب اپنے دارالحکومت ریاض میں ایک نیا ہوائی اڈہ بنانے پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ نئی قومی فضائی کمپنی کا مرکز ہو گا۔ نئی فضائی کمپنی سیاحوں اور کاروباری شخصیات کے لیے مختص ہو گی جب کہ موجود قومی فضائی کمپنی "Saudia" جدہ میں اپنے اڈے سے حج اور عمرہ کی پروازیں چلائے گی۔ یہ بات امریکی نیوز ویب سائٹ بلومبرگ نے گذشتہ ہفتے بتائی۔

ایک نظر اس پر بھی

سدھیر چودھری اسلاموفوبیا زدہ دہشت گرد:یوای اے شہزادی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کی شہزادی ہیند بنت فیصل القاسم نے اپنے ٹی وی نشر کے ذریعہ سے اسلامو فوبیا کو فروغ دینے میں نیوز چینل زی نیوز کے اینکر سدھیر چودھری کے رول کے باوجود اپنے ملک میں مدعو کرنے کیلئے ایک منتظم کی تنقید کی ہے - چودھری کو ایک دہشت گرد کے شکل میں خطاب کرتے ہوئے ...

منگلورو سے کویت کو اڑان بھرنے والی ہوائی جہاز کے اوقات میں ترمیم سے این آر ائیز ناراض : سہولیات فراہم کرنےکا مطالبہ

منگلوروبین الاقوامی ہوائی اڈے سےکویت کےلئے اڑان بھرنےوالی ائیر انڈیا ہوائی جہاز کے اوقات میں نومبر سے ترمیم کی گئی ہے۔ کویت میں مقیم ساحلی پٹی کے این آر ائیز نے الزام لگایا ہے کہ تبدیلی اوقات میں کوئی آسانی فراہم نہیں کی گئی ہے۔