سعودی عرب عالمی سطح پر تیل کی منڈی کی تشکیل نو کررہا ہے: ڈر اسپیگل

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 14th March 2020, 9:20 PM | عالمی خبریں |

 ریاض /14مارچ (آئی این ایس انڈیا)حال ہی میں سعودی عرب نے اچانک اعلان کیا کہ وہ تیل کی پیدوارا یومیہ بڑھا کر ایک ملین بیرل کرنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کے اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دھڑام سے 30 ڈالر نیچے آ گئیں حالانکہ تیل کی قیمتیں پہلے خلیجی مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے کم ہو چکی تھی۔بدھ کے روز جب سعودی عرب نے اچانک تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا تو اس وقت تقریبا آدھی دنیا کرونا کی وباکا شکار ہوچکی تھی۔ یہ ممکن ہے کہ الریاض کی طرف سے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اٹھایا گیا اقدام عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ میں بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہو۔سعودی عرب کے لیے کرونا کی وبا اسٹریٹجک تدابیر اختیار کرنے کا بہترین موقع ہے۔عام حالات میں ایسا کوئی قدم اٹھانا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس سے عالمی معاشی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ سعودی عرب پوری دنیا میں اقتصادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے ستون کا درجہ رکھتا ہے۔اس کا بنیادی ستون سعودی عرب کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ مملکت ان تیل برآمد کرنے والے چند ممالک میں سے ایک ہے جو ضرورت پڑنے پر پیداوار میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔ سعودی عرب دوسرے ممالک کو ایک خاص حد تک تیل کی سپلائی کرتا ہے۔سعودی عرب کے پاس اضافی تیل کی صلاحیت دراصل عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا میں خانہ جنگی اور ایران کو تیل فروخت کرنے پر پابندی کی وجہ سے عالم منڈی میں تیل کی پیداوار میں کمی بیشی کا براہ راست اثر سعودی عرب پر پڑے گا۔سعودی عرب اس محفوظ ذخیرے کواپنے سخت ترین حریفوں کے امریکا اور روس کے خلاف مل کر استعمال کر رہا ہے۔پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک" نے اس سے قبل گذشتہ ہفتے تیل کی پیدوار اور قیمتوں کے حوالے سے مذاکرات کیے جو کہ ناکام رہے۔ اوپیک میں سعودی عرب کو روس کے پلڑے کا تیل پیدا کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ جب یہ مذاکرات ہو رہے تھے اس وقت دنیا کا ایک بڑا حصہ کرونا کی وبا  کا شکار ہوچکا تھا۔ اس وبائی مرض کے پوری دنیا کی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ خاص طور پرعالمی سطح پر تیل کی کھپت اور طلب میں کمی کرونا کا لازمی نتیجہ ہے۔ تیل کی کھپت میں کمی قیمتوں میں کمی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔سعودی عرب یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ اوپیک اور روس اجتماعی طور پر تیل کی پیداوار میں کمی لائیں تاکہ تیل کی عالمی فراہمی کو کم کیا جاسکے اور گرتی قیمتوں کے مقابلہ میں تعاون کیا جا سکے۔عالمی مالیاتی فنڈآئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق روسی حکومت کو اپنے بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تیل کی قیمت کو 45 ڈالر تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی