سعودی عرب: اب کورونا ویکسین نہ لگوانے والے افراد عوامی مقامات پر نہیں جا سکیں گے

Source: S.O. News Service | Published on 3rd August 2021, 12:02 AM | خلیجی خبریں |

ریاض،2؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) عالمی وبا کورونا سے تحفظ کے سلسلے میں سخت تیور اپناتے ہوئے سعودی عرب نے ویکسن نہ لگوانے والوں کو شاپنگ مالز، پبلک مقامات میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی حکومت کی جانب سے دی گئی ویکسینیشن کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی، اب ویکسین نہ لگوانے والوں کو شاپنگ مالز، مارکیٹس اور پبلک مقامات میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مملکت میں ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ شہری 31 جولائی سے قبل کورونا ویکسین لگوالیں بصورت دیگر انہیں مذکورہ بالا مقامات میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، تاہم اب ڈیڈ لائن ختم ہوگئی اور پابندی کا اطلاق یکم اگست سے ہوگیا ہے، شاپنگ مالز، پبلک مقامات یا مارکیٹس جانا ہے تو ویکسین لگوائیں۔ سعودی عرب میں ویکسین نہ لگوانے والوں کو مذکورہ مقامات میں داخل ہونے نہیں دیا جارہا ہے۔

ادھر سعودی وزارت تجارت کے ترجمان عبدالرحمن الحسین نے کہا ہے کہ اتوار یکم اگست سے توکلنا ایپ پر ’ویکسی نیٹڈ‘ کے اسٹیٹس کے حامل افراد ہی مارکیٹوں میں داخل ہو سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ وزیر صحت کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے جس پرعمل درآمد کے لیے یکم اگست کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، اب ویکسین لگوانے والے ہی شاپنگ مالز، ریستوران، کیفٹریا اور دیگر تجارتی اداروں میں داخل ہوں گے، متعلقہ اداروں کو پابندی سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی اداروں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کرانے کو یقینی بنائیں ورنہ ایکشن لیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں شدید بارش، ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں شدید بارشوں اور ان سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری نجی اور سرکاری ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے ہی اپنا کام جاری رکھیں۔

سعودی عرب: آئندہ سال 2023 میں ایک کروڑ عمرہ زائرین کے استقبال کی تیاریاں

سعودی عرب کی قومی کمیٹی برائے حج وعمرہ کے نائب سربراہ ہانی بن علی العمیری نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ سال عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’حج وعمرہ پرکام کرنے والے تمام ادارے اس ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں‘۔