کسان تحریک ختم کرنے پر نہیں ہو سکا کوئی فیصلہ، حکومت سے کئی مطالبات پر وضاحت کا انتظار!

Source: S.O. News Service | Published on 7th December 2021, 10:41 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،7؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ’’کسان تحریک جاری ہے، اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کسانوں کے مطالبات مان نہیں لیے جاتے۔‘‘ سنیوکت کسان مورچہ نے آج سنگھو بارڈر پر ہوئی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر تبادلہ خیال کے بعد یہ اعلان کیا۔ مورچہ نے کہا کہ میٹنگ میں حکومت کی تجاویز کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد طے کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے کچھ ایشوز پر وضاحت پیش کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں کسان بدھ کو پھر میٹنگ کریں گے اور آگے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق کسانوں کے اہم مطالبات ایم ایس پی پر قانون اور مظاہرین کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے سے متعلق ہیں۔ ایک کسان لیڈر کلونت سنگھ سندھو نے بتایا کہ مرکزی حکومت ایم ایس پی طے کرنے کے لیے جو کمیٹی بنا رہی ہے، اس میں سنیوکت کسان مورچہ کے پانچ اراکین شامل ہوں گے۔ لیکن ساتھ ہی کسانوں نے کہا کہ اس پر حکومت کی طرف سے وضاحت ہونی چاہیے کہ کسانوں کے علاوہ دیگر کون لوگ ہوں گے۔ کسانوں نے مرکزی حکومت کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں، ان میں پانچ انتہائی اہم ہیں۔ یہ مطالبات اس طرح ہیں:

  • ایم ایس پی پر قانون بنایا جائے۔
  • کسانوں پر درج مقدمات واپس لیے جائیں۔
  • کسان تحریک کے دوران شہید ہوئے کسانوں کے کنبہ کو معاوضہ دیا جائے۔
  • پرالی بل کو منسوخ کیا جائے۔
  • لکھیم پور کھیری معاملے میں وزیر اجے مشرا کو برخاست کیا جائے۔

 

سنیوکت کسان مورچہ کے لیڈر یدھویر سنگھ نے بتایا کہ ’’سبجیکٹ نوٹ کر لیے گئے ہیں، انھیں حکومت کو بھیج دیا جائے گا۔ امید ہے کہ کل تک حکومت کی طرف سے جواب مل جائے گا۔ اس پر کل 2 بجے پھر سے میٹنگ ہوگی۔ حکومت کی طرف سے جو بھی جواب آئے گا، اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘‘

اس درمیان بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’حکومت کہتی ہے کہ پہلے دھرنا ختم کرو، اس کے بعد مقدمے واپس لیے جائیں گے۔ لیکن ایسا تو حکومت ایک سال سے کہہ رہی ہے۔ جب تک سارے مطالبات نہیں مان لیے جائیں گے، کسان گھر نہیں جائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں مطالبات کو لے کر کچھ اندیشے ہیں جنھیں حکومت دور کرے، اس کے بعد کل کی میٹنگ میں اس پر غور کیا جائے گا۔

کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈھونی کا کہنا ہے کہ ’’ہم تحریک کے دوران شہید ہوئے 700 کسانوں کے لیے معاوضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’تحریک میں 700 سے زیادہ کسانوں نے جان گنوائی ہے، جن کے لیے پنجاب حکومت نے 5 لاکھ روپے معاوضہ اور رشتہ دار میں ایک کو سرکاری ملازمت دینے کی بات کی ہے۔ یہی ماڈل مرکزی حکومت کو بھی نافذ کرنا چاہیے۔‘‘

کسانوں کا کہنا ہے کہ ’’جو کیس واپس لینے کی بات ہے، اس پر حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تحریک واپس لینے کے بعد کیس واپس لینے کی شروعات ہوگی۔ ہریانہ میں 48 ہزار لوگوں پر معاملے درج ہیں، اور بھی ملک بھر میں معاملے درج ہیں۔ حکومت کو فوراً معاملے واپس لینے کی شروعات کرنی چاہیے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

بھوپیش بگھیل کی کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل اور پرینکا سے ملاقات، انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بدھ کے روز دہلی میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ ساتھ ہی وہ پارٹی کی جنرل سکریٹری اور انچارج اتر پردیش پرینکا گاندھی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے لئے بھی پہنچے۔

اب یوپی میں ہوگی ورچوئل لڑائی، بی جے پی اور کانگریس کے پاس ہے ٹرینڈ ٹیم

سماجوادی پارٹی کے گوتم پلی واقع دفتر سے آج پہلی ورچوئل ریلی کا آغاز کیا گیا۔ اس ریلی کو خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے بڑے لیڈر امبیکا چودھری نے صوبے کی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت ملے گا انٹرنیٹ: پنارائی وجین

 کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے منگل کے روز کہا کہ اس سال مئی تک کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ پنارائی وجین نے کہا کہ کیرالہ فائبر آپٹک نیٹ ورک (کے ایف او این) کا مقصد تقریباً 20 لاکھ بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی ...

’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ نعرہ سے متاثر خاتون صحافی ندا احمد نے صحافت کو کیا الوداع، سیاست میں رکھا قدم

صحافت کو خیرباد کر کے سیاست میں قدم رکھنے والی ندا احمد کا کہنا ہے کہ سیاست میں جو لوگ بہت زیادہ وعدے کر تے ہیں، سمجھ لو کچھ نہیں کرتے۔ اس لئے میں وعدے نہیں کروں گی، بلکہ کچھ کر کے دکھانا ہے۔

پی ایم مودی کی میزبانی میں ہند-وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس 27 جنوری کو

ہندوستان 27 جنوری کو پہلے ہند وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس کا انعقاد کرے گا وزیر اعظم نریندر مودی کی میزبانی میں ورچول توسط سے ہونے والی اس چوٹی کانفرنس میں قزاقستان، جمہوریہ کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان شرکت کریں گے پہلے ان لیڈران کے یوم جمہوریہ کی ...