اعظم خان کی مشکلات میں اضافہ، 2 ہزار سے زائد درخت کٹوانے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th August 2019, 5:38 PM | ملکی خبریں |

 رامپور، 24اگست(ایس ا ونیوز/آئی این ایس انڈیا) سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رامپور کے ایم پی اعظم خاں اب ایک نئی مشکل میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ان پر دو ہزار سے زائد درخت کٹوا دینے کا الزام لگا ہے۔اس سے پہلے ان پر زمینوں پر قبضے سمیت دیگر کئی الزام لگ چکا ہے۔اعظم خاں پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری زمین پر کھڑے کتھے کے 2173 درخت کٹوا دئے۔سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران اعظم خاں کی جوہر یونیورسٹی کو جو زمین لیز پر دی گئی تھی اس پر 2173 درخت بھی لگے تھے جن کی قیمت قریب 4 لاکھ 13 ہزار لگایا گیا ہوگیا۔لیز کی شرائط کے مطابق درختوں کو کاٹا نہیں جا سکتا تھا لیکن اب ایس ڈی ایم رام پور کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اب وہاں کوئی درخت نہیں ہے،یہ رپورٹ این جی ٹی کو بھیج دی گئی ہے۔ضلع انتظامیہ نے یوپی حکومت سے لیز منسوخ کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔درخت کاٹے جانے کے معاملے میں اعظم خان کو نوٹس بھیج جانے کی تیاری ہے۔حال ہی میں ان کے ریزورٹ کی دیوار کو انتظامیہ نے گرا دیا تھا جس سے پرانی اینٹوں نکلی تھیں۔ریزورٹ کا ایک حصہ محکمہ آبپاشی کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر بنائے جانے کا الزام ہے۔دوسری طرف محمد علی جوہر یونیورسٹی کو لے کر اعظم خاں مسلسل پھنستے نظر آرہے ہیں،سب سے پہلا تنازعہ دو شیروں کے مجسمے کا ہے،یہ دونوں مجسمے رامپور کلب سے چوری ہوئے تھے،یہ مجسمے اس دور کے ہیں جب رام پور میں نوابوں کی حکومت تھی،یہ دونوں مجسمے جوہر یونیورسٹی میں پائے گئے۔دوسرا تنازعہ مدرسہ عالیہ کی کتابوں کا ہے،1774 میں کھولے گئے اس مدرسے کو اعظم خاں کے ٹرسٹ نے لیز پر لے رکھا ہے،یہاں قریب 9 ہزار قدیم کتابیں تھیں۔ساتھ ہی اس مدرسے کا فرنیچر بھی قیمتی تھا،الزام ہے کہ یہ کتابیں اور فرنیچر جوہر یونیورسٹی پہنچا دیا گیا۔تیسرا تنازعہ زمین سے منسلک ہے،78 ہیکٹر میں بنی یہ خوبصورت یونیورسٹی کی 38 ہیکٹر زمین پر تنازعہ ہے۔الزام ہے کہ اس زمین کو زبردستی کسانوں سے لے لیا گیا۔یونیورسٹی کے لئے تین بار سرکل ریٹ کم کرائے گئے۔ایس پی حکومت کے دوران اس یونیورسٹی پر بھاری بھرکم سرکاری پیسہ خرچ کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی