مودی حکومت نے ڈھایا ISRO پر قہر! ہزاروں ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی

Source: S.O. News Service | Published on 11th September 2019, 10:59 AM | ملکی خبریں |

چنئی، 11؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) چندریان-2 کے لینڈر ’وکرم‘ سے رابطہ قائم کرنے کی جی توڑ کوششوں میں مصروف انڈین اسپیس ریسرچ سنٹر (ISRO) کے سائنسدانوں سمیت ہزاروں ملازمین کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ چندریان-2 مشن میں آئی خامی سے دباؤ کے باوجود پھر سے مشن کو انجام تک پہنچانے میں جی جان سے مصروف اِسرو کے سائنسدانوں اور انجینئروں سمیت ہزاروں سینئر ملازمین کی انکریمنٹ میں کٹوتی ہو گئی ہے۔

ملی اطلاعات کے مطابق حکومت ہند کے ڈپٹی سکریٹری ایم رام داس کے دستخط سے جاری ایک آفس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزارت مالیات کی ہدایت پر خلائی محکمہ کے تحت آنے والے ایس ڈی، ایس ای، ایس ایف اور ایس جی گریڈ کے سائنسدانوں/ انجینئروں کو پانچویں تنخواہ کمیشن کے مطابق ملنے والے دو اضافی انکریمنٹس کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ حکم یکم جولائی 2019 سے نافذ ہوگا۔ یہ نوٹیفکیشن جون 2019 میں جاری کیا گیا تھا۔

حکومت کے اس قدم کو لے کر اِسرو کے ملازمین میں کافی مایوسی ہے۔ ’دی کوئنٹ‘ کے مطابق اس کو دیکھتے ہوئے اسپیس انجینئرس ایسو سی ایشن (ایس ای اے) کے سربراہ اے منی رمن نے اِسرو چیئرمین کے. سیون کو 8 جولائی کو ایک خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ وہ حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے گزارش کریں۔ ایک سینئر سائنسداں کے مطابق حکومت کے تازہ قدم سے اِسرو ملازمین کو ہر مہینے اوسطاً 10 ہزار روپے کم مل رہے ہیں۔

اپنے خط میں منی رمن نے کہا ہے کہ اِسرو سائنسدانوں/انجینئروں کو ملنے والے ان انکریمنٹس کو ہٹانے کے پیچھے حکومت نے چھٹی تنخواہ کمیشن میں کی گئی ترمیمی ادائیگی کا حوالہ دیا ہے، لیکن خود تنخواہ کمیشن نے 1996 کے ان انکریمنٹس کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی۔ منی رمن نے کہا کہ 1996 کے ان انکریمنٹس کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی۔ منی رمن نے کہا کہ 1996 کے انکریمنٹس سپریم کورٹ کے حکم پر نافذ کیے گئے تھے، اس لیے کارکردگی کی بنیاد پر حال میں نافذ انکریمنٹ کا موازنہ 1996 کے انکریمنٹس سے نہیں کیا جا سکتا۔

اس درمیان چندریان-2 کو لے کر اِسرو پر فخر کر رہے سوشل میڈیا یوزرس کو بھی اس خبر سے جھٹکا لگا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر لگاتار لوگوں کے ذریعہ کئی طرح کے رد عمل آ رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے اسے ملک کے اصل ہیروز یعنی اِسرو سائنسدانوں کے ساتھ حکومت کے ذریعہ خطرناک مذاق بتایا ہے۔ کئی لوگوں نے اسے دوہرا رویہ قرار دیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔