سبزی باغ پٹنہ کا احجاج 38ویں روز بھی جاری، ’سی اے اے سے ملک کا صرف نقصان ہوگا‘

Source: S.O. News Service | Published on 19th February 2020, 12:05 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،19/فروری (ایس او نیوز/یو این آئی)  سی اے اے این آر سی او ر این پی آر کے خلاف دار الحکومت پٹنہ میں مسلسل 38ویں دن بھی دھرنا و احتجاج جاری ہے۔ شاہین باغ کے بعد سبزی باغ دھرنے کا آغاز ہوا تھا اور مسلسل 38 دن سے دھرنا و احتجاج جاری و ساری ہے۔ مرد وخواتین سمیت بچے، بوڑھے جوان اور بلا تفریق مذہب وملت ہر کوئی دھرنے میں شریک ہے۔ دھرنے کی قیادت خواتین اور طلباءکر رہے ہیں، تاہم خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔ کمسن بچے اور بچیاں بھی این آر سی اور این پی آر، سی اے اے کی مخالفت میں نعرے بازی کرتے نظر آرہے ہیں۔

پٹنہ یونیورسیٹی کے طالب علم نے دھرنے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر سے ملک کے باشندوں کا نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ آج ملک کی معاشی حالت خستہ ہے، روزگار برائے نام ہے ۔ کمپنیاں بند ہورہی ہیں، کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں ۔ ایسے وقت میں کیا اس طرح کے قانون کی ہندوستان کو ضرورت ہے! نہیں، ایسے قانون کی ابھی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے کسی نے کہا کہ بھائی تم کیوں سی اے اے کی مخالفت کر تے ہواس سے تمہارا کوئی نقصان ہونے والانہیں ہے۔ تو ہم نے کہا کہ کیا اس سے ملک کافائدہ ہونے والا ہے۔ اس سے روزگار ملنے والے ہیں۔ تو اس نے منفی میں جواب دیا تو ہم نے کہا کہ اسی لئے تو ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ آج اپنے لوگوں کے کھانے کے لالے پڑے ہوئے، آج بے روزگاری اپنے فن پھیلائے کھڑی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارے ہیں اور ہم سی اے، این آر سی اور این پی جیسے غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ جس سے نقصان کے بجائے کہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ قانون غیر جمہوری اور غیر آئینی بھی ہے اس لئے بھی ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ سیاہ قانون ملک کے تمام باشندوں کیلئے خطرناک ہے سب سے زیادہ غریب ، قبائلی،دلت ، پسماندہ ، انتہائی پسماندہ، اقلیتی طبقات کے لوگوں کو اس قانون سے نقصان ہوگا ۔ کیوں کہ ان میں علم کی کمی ہے ساتھ ہی ان کے پاس نہ روزگا ر ہیں اور نہ ہی زمین وجائیداد ۔ وہ کاغذات کہاں سے لائیں گے اور اپنی شہریت کیسے ثابت کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ سی اے اے قانون سے ہندوستانیوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن ہمارا ماننا ہے کہ جب این پی آر اور این آر سی کا نفاذ ہوگا تو اس سے تمام ہندوستانی باشندے متاثر ہوں گے اور وہ اپنی شہریت کے ساتھ اپنے زمین وجائیداد اور نوکری سمیت تمام چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اس میں نہ ہندو کی تفریق ہو گی اور نہ ہی مسلمانوں کی تفریق بلکہ سبھوں کو اپنی شہریت ثابت کرنا ہوگا اگر وہ اپنی شہریت ثابت کریں گے وہ ہندوستانی شہری کہلائیں گے اور اگر نہیں اپنی شہریت ثابت کر پائیں تو انہیں ڈٹنشن سینٹر میں بھیج دیا جائے گا جہاں کی زندگی انتہائی المناک اور کربناک ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر مان بھی لیں کہ برادران وطن کو بعد میں شہریت مل بھی جائے گی تو کیا گارنٹی کہ ان کو وہ تمام حقوق مل پائیں گے جو ابھی ہیں! اس لئے کہ پہلے ان پر پناہ گزیں کا لیبل لگے گا پھر انہیں حکومت کی صوابدید پر شہریت ملے گی۔ اسی لئے ہم تمام اس کی مخالفت کر رہے ہیں کہ کیونکہ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر انتہائی پر خطر اور پر پیچ راہ ہے جس راہ سے ہر کسی کو گذرناہوگا ۔ حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ ابھی این آر سی نہیں لائیں گے لیکن کیا گارنٹی ہے کہ وہ آئندہ نہ لائے اس لئے ہم اور تمام بیدار شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی مخالفت کریں اور حکومت کو ان قوانین سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔

سبزی باغ سمیت ریاست بہار کے مختلف مقامات دربھنگہ کے لال باغ ، قلعہ گھاٹ ، مدھوبنی کے اونسی زیرومائل ،مظفر پور کے ماڑی پور ،چندوارہ ،پٹنہ کے سمن پورہ راجہ بازار ، دیگھا ، پٹنہ سیٹی ، لال باغ پٹنہ ،پھلواری شریف ، عالم گنج پٹنہ، گیا کے شانتی باغ ، سیتامڑھی ، سمستی پور ، سیوان ، گوپال گنج ، ارریہ سیمانچل ، بیگو سرائے ، پکڑی براواں نوادہ ، جہان آباد، رانی باغ سہرسہ موتیہاری ، ڈھاکہ ، شیوہر ، سمیت متعدد مقامات پر بھی دھرنا احتجاجات و مظاہرات مسلسل جاری وساری ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ابھی اعظم خان اور اہل خانہ کو جیل میں ہی رہنا ہوگا، ضمانت کی عرضی خارج

سماجوادی پارٹی کے قدآور رہنما اور رامپور سے رکن پارلیمان اعظم خان ان کی بیوی تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کی ضمانت کی عرضی پر آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے ان کی عرضی خارج کردی۔