آئی اے ایس بننے کا خواب لیے دہلی آئے کشمیری طلبا کا خواب چکناچور، لوٹے اَپنے گھر

Source: S.O. News Service | Published on 21st September 2019, 1:18 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،21؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) یو پی ایس سی کے امتحان دے کر سول سروس کرتے ہوئے ملک کی خدمت کرنے کا خواب آنکھوں میں سنجوئے درجنوں کشمیری طلبا اپنے گھر سے دور دہلی کے مختلف کوچنگ میں پڑھ کر تیاریاں کر رہے تھے۔ لیکن برسراقتدار بی جے پی کے ذریعہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد تقریباً 30 طلبا، جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں، اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ حالانکہ ان طلبا نے دہلی کی کوچنگ کے لیے موٹی رقم خرچ کی تھی، لیکن 5 اگست کے بعد گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہ ہونے کے سبب پیدا تناؤ کے مدنظر ان طلبا نے اپنے کیریر کی قربانی دے دی ہے۔

پلوامہ کی رہنے والی غزالہ بتاتی ہیں کہ ’’دہلی میں رہتے ہوئے مجھے ہر لمحہ اپنی فیملی کی فکر رہتی تھی۔ آخر کار میں نے اپنی کوچنگ کی قربانی دے کر گھر واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ غزالہ کا کہنا ہے کہ اس نے دہلی کے اولڈ راجندر علاقے کے ایک کوچنگ سنٹر کو 1.55 لاکھ روپے کی فیس جمع کی تھی۔ اس نے بتایا کہ ’’حالانکہ میں نے صرف تین ہفتہ ہی کوچنگ لی، لیکن کوچنگ سنٹر نے میری پوری فیس واپس کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘

اسی طرح عالیہ بھی سول سروس میں جانا چاہتی تھیں۔ پلوامہ کی ہی عالیہ کا کہنا ہے کوچنگ کو آدھے راستے میں چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ اس سے ہماری سول سروس میں جانے کا امکان کم ہوتا ہے، لیکن کیا کرتے۔ عالیہ نے بتایا کہ ’’بچپن سے ہی میرا خواب آئی اے ایس بننے کا تھا، لیکن اب یہ سب ناممکن نظر آ رہا ہے۔‘‘ عالیہ کا کہنا ہے کہ بات چیت پر پابندی کے سبب ہی ایسا کرنا پڑا۔ عالیہ بتاتی ہے کہ وہ ایک قدامت پرست سماج سے تعلق رکھتی ہے، ایسے میں اس کے گھر والے ہر دن اس سے کم از کم 5-4 بار بات کرتے تھے، لیکن 5 اگست کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا تھا۔

آئی اے ایس بننے کی تمنا رکھنے والے بہت سے کشمیری طلبا کو اب بھی وہ وقت یاد ہے جو انھوں نے کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد دہلی میں گزارا اور ان کی فیملی والوں سے کوئی بات نہیں ہو پاتی تھی۔ بارہمولہ کے بلاس اہم کہتے ہیں کہ وہ ہر دن الگ الگ ویب سائٹ پر جا کر وادی کے حالات جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ بلال کا کہنا ہے کہ ’’اس کے بعد ہی میں ناشتہ وغیرہ کر پاتا تھا۔ پہلے دو ہفتے تو کچھ گراؤنڈ رپورٹ نظر آتی تھیں، جس سے ہمیں اور گھبراہٹ ہونے لگتی تھی۔‘‘ بلال 37 اگست کو بارہمولہ لوٹ آئے۔

کلگام کے ذاکر احمد کی بھی ایسی ہی کہانی ہے۔ وہ پچھلے 8 مہینے سے دہلی میں رہ کر آئی اے ایس امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 5 اگست کے بعد وہ ایک دن بھی پڑھائی پر فوکس نہیں کر پائے۔ بلال بتاتے ہیں کہ ’’میں کئی دنوں تک لائبریری جا ہی نہیں پایا، ہر وقت ٹی وی دیکھتا رہتا، اور الگ الگ نیوز چینلوں پر خبریں دیکھتا رہتا۔‘‘ ذاکر نے تقریباً ایک مہینہ دہلی میں رک کر کمیونی کیشن سے پابندی ختم ہونے کا انتظار کیا، اور آخر کار واپس آ گئے۔

ایک اور آئی اے ایس کی تیاری کر رہے طالب علم نے پہچان ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اپنے گھر والوں کی خیر و خیریت جاننے کے لیے 5 اگست کے بعد وہ تین بار دہلی اور سری نگر آئے گئے ہیں۔

اس نامہ نگار نے دہلی میں کچھ کشمیری طلبا سے فون پر بات کی۔ ان میں سے زیادہ تر کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ تقریباً دو مہینے سے نہ تو کمرے کا کرایہ چکایا ہے اور نہ ہی بجلی پانی کا بل بھرا ہے۔ ایسے میں مکان مالک ان سے کمرہ خالی کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے گھر والے ہمیں پیسہ بھیج ہی نہیں پا رہے ہیں، کیونکہ 5 اگست کے بعد سے کشمیر میں انٹرنیٹ بند ہے، ایسے میں ای-بینکنگ کیسے ہوگی۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

وندے بھارت مشن کے تحت مزید 6ممالک  کے بھارتی  لوٹیں گے وطن : پرائیویٹ ہوائی جہازوں کے استعمال کا فیصلہ

کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ دو مہینوں سے مختلف بیرونی ممالک میں پھنسے ہوئے بھارتیوں کے لئے بڑی بری خبر ہے کہ فی الحال بین الاقوامی ہوائی جہاز کی خدمات شروع نہیں ہونے کی جانکاری ملی ہے۔

کورونا: جرمنی کو پیچھے چھوڑ ساتویں مقام پر پہنچا ہندوستان، 24 گھنٹے میں 230 اموات

  ملک میں كورونا وائرس کے نئے کیسز میں دن بہ دن ہو رہے اضافہ سے متاثرین کی کل تعداد 1.90 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ممالک کی فہرست میں فرانس اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر ساتویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔

بھٹکل میں لاک ڈاون میں چھوٹ مگر کنٹیمنٹ زون میں آنے کی وجہ سے عدالت میں صرف ای فائلنگ کی سہولت

گذشتہ ماہ ایک ساتھ بھٹکل میں کورونا کے 30 معاملات سامنے آنے کے بعد بھٹکل کو کنٹیمنٹ زون کے زمرے میں رکھا گیا تھا، مگر اب بھٹکل میں لاک ڈاون میں چھوٹ دی گئی ہے اور دکانوں اور دیگر کاروباری اداروں کو صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی پورے شہر ...

وندے بھارت مشن کے تحت مزید 6ممالک  کے بھارتی  لوٹیں گے وطن : پرائیویٹ ہوائی جہازوں کے استعمال کا فیصلہ

کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ دو مہینوں سے مختلف بیرونی ممالک میں پھنسے ہوئے بھارتیوں کے لئے بڑی بری خبر ہے کہ فی الحال بین الاقوامی ہوائی جہاز کی خدمات شروع نہیں ہونے کی جانکاری ملی ہے۔

اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع میں خانگی بسوں کی خدمات آج سے شروع ؛ کرایوں میں اضافہ کا اعلان، 10 روپئے اقل ترین کرایہ

اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع میں یکم جون سے بس خدمات بحال ہوگئی جو خانگی آپریٹرس چلاتے ہیں۔ کرایوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ کنارا بس اسوسی ایشن صدر راج ورما بلال نے یہ بات  کہی ۔ 

اُترکنڑا میں پھرسامنے آئے کورونا کے معاملات؛ کمٹہ میں چار اور سداپور میں ایک کی رپورٹ کورونا پوزیٹو

ضلع اُترکنڑا میں کورونا پوزیٹو کے معاملات ہر روز سامنے آرہے ہیں، آج تازہ رپورٹ کمٹہ اور سداپور سے سامنے آئی ہے جہاں بالترتیب چار اور ایک کیس کورونا پوزیٹو موصول ہوئی ہے۔