روس: امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افغان عسکریت پسندوں کو انعام کی پیش کش کا الزام بے بنیاد قرار

Source: S.O. News Service | Published on 29th June 2020, 4:59 PM | عالمی خبریں |

 ماسکو،29/جون (آئی این ایس انڈیا) روس نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ یا نیٹو کے فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بدلے میں طالبان کو انعام دینے کی پیشکش کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

امریکہ میں روسی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بے بنیاد الزامات کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ میں روس کے سفارتی عملے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی کہا ہے کہ روس کی جانب سے مبینہ انعام دینے کی پیشکش کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا نائب صدر مائیک پینس کو کسی بھی قسم کی کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' میں ایک رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے نامعلوم عہدے داروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس کے خفیہ ادارے کے ایک یونٹ نے طالبان سے منسلک عسکریت پسندوں کو افغانستان میں اتحادی افواج اور امریکی فوجیوں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے بدلے میں خفیہ طور پر انعام و اکرام دینے کی پیش کش کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس پیش کش کا مقصد افغانستان میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کو نقصان پہنچانا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ 2019 میں افغانستان میں لڑائی کے دوران 20 امریکی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کن ہلاکتوں پر شک کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق مذکورہ انعام سے تھا۔

اخبار کا کہنا تھا کہ خفیہ معلومات کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کر دیا گیا تھا جس کے بعد حکام نے ممکنہ آپشنز بھی تیار کیے تھے۔ جن میں ماسکو سے سفارتی شکایت سمیت دیگر آپشن شامل تھے۔

تاہم اب وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کی تردید سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے بھی روس کے خفیہ اداروں سے کسی بھی قسم کی ڈیل ہونے کی اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔

غیر ملکی فوجیوں یا افغان اہلکاروں پر حملوں کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ہمارے ہدف بنا کر قتل یا قاتلانہ حملوں کی کارروائیوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے جب کہ طالبان نے یہ تمام کارروائیاں اپنے وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے کی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ترکی: صوفیا میں 24 جولائی سے باجماعت نماز ہوگی

استنبول کے عجائب گھر آیا صوفیا کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کے بعد جمعہ کو وہاں اذان دی گئی جسے ترک چینلوں نے براہ راست نشر کیا۔ صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ 24 جولائی سے باجماعت نماز شروع کردی جائے گی۔