آرٹی آئی کارکن قتل: سابق بی جے پی ایم پی دینو بوگھا سولنکی سمیت7 کو عمر قید

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 8:34 PM | ملکی خبریں |

احمد آباد، 11 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) آر ٹی آئی کارکن امت جیٹھوا کے قتل معاملے میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کو سابق بی جے پی ایم پی دینو بوگھا سولنکی سمیت سات افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔امت جیٹھوا کا قتل گر جنگل کے علاقے میں غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں کر دیا گیاتھا۔سی بی آئی جج کے ایم دوے نے سزا کے ساتھ سابق بی جے پی ایم پی سولنکی اور اس کے بھتیجے پر 15-15 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔بتا دیں کہ سابق بی جے پی ایم پی کا بھتیجا بھی معاملے میں ملزم ہے۔کورٹ نے جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے سولنکی اور اس کے بھتیجے شیوا سولنکی کو قتل اور سازش کا مجرم ٹھہرایا گیا۔سولنکی 2009 سے 2014 تک جونا گڑھ کے ایم پی رہے۔کیس کے دیگر قصورواروں میں شیلیش پانڈیا، بہادرسنگھ وڈھیر، پنچن جی دیسائی، سنجے چوہان اور اداجی ٹھاکر شامل ہیں۔عدالت نے گزشتہ ہفتے تمام ساتوں ملزمان کو قتل کا مجرم ٹھہرایا تھا۔پیشے سے وکیل آر ٹی آئی کارکن جیٹھوا کا گر جنگل اور اس کے ارد گرد غیر قانونی کانکنی کو آر ٹی آئی درخواستوں کے ذریعے ظاہر کرنے کو لے کر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ان کان کنی کی سرگرمیوں میں دینو بوگھا سولنکی شامل تھا۔بتا دیں کہ سال 2010 میں جیٹھوا نے گر جنگل میں اور اس کے ارد گرد غیر قانونی کانکنی کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔سولنکی اور اس بھتیجے کو اس معاملے میں مدعا علیہ بنایا گیا اور جیٹھوا نے غیر قانونی کان کنی میں ان کے ملوث ہونے کو دکھانے والے کئی دستاویزات پیش کئے۔مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران ہی جیٹھوا کو 20 جولائی 2010 کو گجرات ہائی کورٹ کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیاتھا۔آغاز میں احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ نے معاملے کی جانچ کی اور دینو سولنکی کو کلین چٹ دے دی تھی۔تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے سال 2013 میں معاملہ سی بی آئی کو سونپا۔سی بی آئی نے نومبر 2013 میں سولنکی اور چھ دیگر کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا تھا۔مئی 2016 میں سولنکی کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کے الزام طے کئے گئے۔اس کے بعد آر ٹی آئی کارکن امت جیٹھوا کے والد بھکھابھائی جیٹھوا دوبارہ کیس شروع کرنے کے لئے ہائی کورٹ پہنچے۔عدالت نے 2017 میں نئے سرے سے مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔مقتول آر ٹی آئی کارکن کے والد بھکھابھائی جیٹھوا نے عدالت کے فیصلے کے بعد کہاکہ ہماری عدلیہ وقت لیتی ہے لیکن اس نے آخر کار ہمارے خاندان کو انصاف فراہم کیا،یہاں تک کہ سولنکی جیسے مجرم سے بھی انصاف کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بابری مسجد ملکیت کا معاملہ؛ مقدمہ کی سماعت آخری مرحلے میں، ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون پیر کو کریں گے بحث ؛ 17 اکتوبر تک تمام فریقین کو بحث مکمل کرنے کے احکامات

بابری مسجد حق ملکیت معاملہ کی سماعت کل پیر سے ایک بار پھرشر وع ہونے جارہی ہے، حتمی بحث کا یہ 38 واں دن ہوگا جس کے دوران سوٹ نمبر 4 پر مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے  وکیل ڈاکٹر راجیو دھون اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کریں گے۔گذشتہ ایک ہفتہ سے دسہرے کی تعطیلات کی وجہ سے عدالت کی ...

سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی ہند وفد کا کشمیر دورہ، کشمیر کے مسائل پر عام لوگوں سے کی گفتگو

سول سوسائٹی اور جماعت اسلامی ہند کے   ذمہ داران پر مشتمل ایک وفدنے مورخہ7/ اکتوبر سے 10/ اکتوبر کے درمیان کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی بھی کشمیر میں عوام بے حد پریشان ہیں اور کئی مسائل کا سامناکررہے ہیں۔ ریلیز ...

’وعدے پورے نہیں کرنے والی بی جے پی کو ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں‘: رامیشور راؤ

جھارکھنڈ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق ممبر پارلیمنٹ رامیشور راؤ نے الزام لگاتے ہوئے آج کہا ہے کہ ریاست کے وزیراعلی رگھوبر داس کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت گزشتہ پانچ برسوں میں وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اس لئے اسے عوام سے ووٹ مانگنے کا کوئی ...

کانگریس رکن بننے پر فخر محسوس کر رہی ہوں: الکا لامبا

گزشتہ اسمبلی انتخابات میں دہلی کی چاندنی چوک سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچنے والی الکا لامبا ہفتہ کو کانگریس میں واپس آگئیں۔ کانگریس کے پارٹی معاملات کے دہلی کے انچارج پی سی چاکو کی موجودگی میں محترمہ لامبا نے پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ کانگریس کی طلبا یونین کی تنظیم ...

کشمیر میں مواصلاتی پابندی، اہلیان کشمیر پر قہر سامانیوں کی داستان

وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از دو ماہ سے موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندی، جو ہنوز جاری ہے، کے دوران اہلیان وادی کو جن متنوع مصائب و گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان مصائب ومشکلات سے نصف صدی قبل کے لوگ بھی دوچار نہیں تھے۔