وزیر اعظم کو بھی ووٹوں کی اکثریت کا یقین نہیں،مخلوط حکومت کی تیاری مودی۔شاہ مْکت بی جے پی‘ کے لئے آر ایس ایس نے گڈکری کے سَاتھ مل کر بنایا ’پلان بی‘

Source: S.O. News Service | Published on 15th May 2019, 12:25 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کا آخری مرحلہ ابھی باقی ہے، لیکن زمینی رپورٹس سے جو اشارے مل رہے ہیں اس نے برسراقتدار اتحاد کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ایسے میں جہاں ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی مخلوط حکومت کے گن گانے لگے ہیں وہیں ایک لیڈر ایسا ہے جو نہ صرف پراعتماد نظر آتا ہے بلکہ کچھ پرجوش بھی ہے۔ اس لیڈر کا نام ہے نتن گڈکری، جو آر ایس ایس کے ’پلان بی‘ کے تحت اگلی حکومت کا سربراہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب پوری انتخابی مہم میں حزب اختلاف کے اتحاد کو ’مہا ملاوٹ‘ سے تعبیر کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو شاید آخری مرحلہ کے آتے آتے یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ یہ 2014 نہیں ہے بلکہ 2019 ہے اور ان کی پارٹی کی حالت انتخابات میں اچھی نہیں ہے۔ اسی لئے اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ ان کو مخلوط حکومتوں کو چلانے کا تجربہ ہے۔ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے نریندر مودی بھی اب ’مہا ملاوٹ‘ کی گنجائشیں تلاش کرنے لگے ہیں۔نریندر مودی کو بھی بہت شدت سے اندازہ ہو گیا ہے کہ ان انتخابات میں ان کی پارٹی اور اتحاد کو اکثریت نہیں مل رہی ہے،اسی لئے وہ ’فانی‘ طوفان کے بہانے اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک سے ملاقات کرنے پہنچے۔ اس کے بعد انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی ملاقات کرنے کی کوشش کی جس کو ممتا بنرجی نے ٹھکرا دیا۔ اب وزیر اعظم کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کو نئے اتحادی بھی شاید نہیں مل پائیں گے کیونکہ زیادہ تر سیاسی پارٹیاں اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں مل کر کام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی شبیہ کو ختم کرنے کے لئے مودی نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ان کو او ران کی جماعت کو مخلوط حکومت چلانے کا تجربہ ہے لیکن کیا ان کو ’روپ‘ بدلنے کا کوئی فائدہ ہوگا۔آخری مرحلہ کے آتے آتے زیادہ تر سیاست دانوں کو ا س بات کا اندازہ ہو رہا ہے کہ ان انتخابات میں کسی ایک پارٹی یا ایک اتحاد کو واضح اکثریت نہیں مل رہی ہے اسی لئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر)نے تمل ناڈو کے ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن سے فیڈرل فرنٹ کی بات کی جس پر اسٹالن نے واضح کر دیا کہ وہ یو پی اے کا حصہ ہیں اور کے سی آر کو بھی یو پی اے میں شامل ہونے کی دعوت دے دی۔

واضح رہے کہ نیوز 24 کو دئے اپنے انٹرویو میں نریندر مودی نے کہا ہے کہ ”مجھے مخلوط حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ میں جب تنظیم میں تھا تب بھی ہم نے بنسی لال کی حکومت میں کا م کیااور چوٹالہ حکومت میں بھی کام کیا۔ جموں و کشمیر میں عبداللہ حکومت کے ساتھ بھی کام کیا، مفتی صاحب کے ساتھ بھی کام کیا، گجرات میں چمن بھائی پٹیل کے ساتھ بھی کام کیا۔ کتنی بھی اکثریت کیوں نہ آئے مگر ہم کو سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے“۔وہیں ذرائع کے مطابق نتن گڈکری آر ایس ایس کے ’پلان بی‘ کے تحت کام کر رہے ہیں، اور اندرونی طور پر ملاقاتوں اور پالیسی بنانے میں لگے ہیں۔ یہ بات عام ہے کہ نتن گڈکری آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے خاص ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے متبادل کی شکل میں نتن گڈکری پر داؤلگا رکھا ہے۔ حالانکہ گڈکری اس بات سے لگاتار انکار کرتے رہے ہیں۔دراصل آر ایس ایس نے ’پلان بی‘ کے تحت نتن گڈکری کو مودی-شاہ گروپ کے مقابلے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ بھلے ہی گڈکری اس سے انکار کریں، لیکن بی جے پی کے رام مادھو اور شیو سینا کے سنجے راوت نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ بی جے پی کو مکمل اکثریت نہیں ملنے والی ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم عہدہ این ڈی اے کا ہوگا۔انہی بیانات کے سبب گڈکری کے من میں لڈو پھوٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گڈکری کو آر ایس ایس کا ساتھ تو ملا ہی ہوا ہے، انھیں شیو سینا اور نتیش کمار کی جنتا دل یو کی بھی حمایت مل سکتی ہے۔ دھیان رہے کہ گڈکری پچھلے دروازے سے مل رہی اسی شہ کی وجہ سے مودی-شاہ حامی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بھی کھل کر بولتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔غور طلب ہے کہ مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی زبردست شکست کے بعد تیواری نے آر ایس ایس سربراہ بھاگوت اور جنرل سکریٹری بھیا جی سریش جوشی کو خط لکھ کر مودی کی جگہ گڈکری کو لانے کی بات کہی تھی۔ تیواری کا کہنا ہے کہ اگر گڈکری کی قیادت میں لوک سبھا کے انتخاب لڑے جاتے تو بی جے پی کی حالت بہتر ہوتی۔ لیکن مودی اور شاہ نے بی جے پی کو اپنی پارٹی بنا لیا ہے اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کو درکنار کر کے انتخاب لڑے جا رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ”راج ناتھ سنگھ جیسے قدآور لیڈر بھی بے بس ہو گئے ہیں۔ پارٹی چاپلوسی کے دور سے گزر رہی ہے۔ آر ایس ایس کے نظریہ اور مودی-شاہ کے دبنگ نظریہ میں تال میل نہیں ہے۔ پارٹی کے لئے مودی-شاہ کے زور سے چیخنے کا استعمال بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ دیہی ہندوستان میں مودی کا مینڈیٹ کم ہوا ہے۔ مودی-شاہ برانڈ بی جے پی کو لے ڈوبے گا۔

فی الحال جو حالت نظر آ رہی ہے اس میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بن سکتی ہے۔“اْدھر آر ایس ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو مودی-شاہ کے چنگل سے باہر لانا ہے اور اس کے لئے جو متبادل سوچے گئے ہیں اس کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی میں گڈکری ہی تنہا لیڈر ہیں جن کا نام مودی کے متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اور وہ جس طرح سے مودی اور ان کی ٹیم پر حملہ کرتے ہیں اور کانگریس کی تعریف بھی کر دیتے ہیں اس سے ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گڈکری آر ایس ایس کی ہی اسکرپٹ پڑھتے ہیں۔اس کے علاوہ بی جے پی کی معاون شیو سینا بھی نتن گڈکری کے لئے زور لگا سکتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف شیو سینا کے ’مراٹھا فخر‘ کا مفاد حاصل ہوتا ہے، بلکہ مودی-شاہ کے دور میں گجراتی ٹیم کے ہاتھوں ہوئی بے عزتی کا بدلہ لینے کا بھی موقع اسے مل جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی