کشمیر: تاریخی جامع مسجد 15 ویں جمعے کو بھی مقفل، نماز پر پھر قدغن

Source: S.O. News Service | Published on 15th November 2019, 11:46 PM | ملکی خبریں |

سری نگر،15/نومبر(ایس او نیوز/یو این آئی) وادی کشمیر میں 103 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال سایہ فگن رہنے کے بیچ جہاں ایک طرف معمولات زندگی پٹری پر آرہے ہیں تو وہیں انٹرینٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی کے ساتھ ساتھ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے محراب ومنبر 15 ویں جمعہ کو بھی خاموش رہے۔

بتادیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے یمین و یسار میں جمعہ کے روز اگرچہ معمولات زندگی بحالی کی طرف گامزن ہوتے ہوئے نظر آئے تاہم عید میلادالنبی (ص) کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات و جلسہ وجلوس ہائے میلاد کا انعقاد دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث معطل رہا، بازار صبح اور شام کے وقت کھل گئے اور سڑکوں پر بھی ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بالخصوص نجی ٹرانسپورٹ کی آمد رفت برابر جاری رہی۔

پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع وادی کی قدیم ترین عبادت گاہ جامع مسجد جمعہ کے روز مسلسل 15 ویں جمعہ کو بھی مقفل ہی رہی، انتظامیہ نے جامع کے گرد وپیش سیکورٹی حصار کو حفظ امن کے پیش نظر مزید سنگین کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق جامع بازار میں صبح کے وقت کچھ دکان کھل گئے تھے تاہم وہ بارہ بجنے سے قبل ہی بند ہوگئے۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر کے گوشہ کنار میں عید میلاد النبی (ص) کے سلسلے میں ہقہ بھر تقریبات اور جلسہ و جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا تھا لیکن نامساعد حالات کے پیش نظر امسال تمام تر تقریبات مفقود ہی رہیں۔

تاہم درگاہ حضرت بل میں جمعہ کے روز عید میلاد النبی (ص) کے سلسلے میں آخری تقریبات انتہائی سادگی کے ساتھ انجام پذیر ہوئیں اور لوگوں کی انتہائی قلیل تعداد کو ہی موئے مقدس کا دیدار نصیب ہوا۔ یواین آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ درگاہ حضرت بل کی طرف جانے والے روڑ کے نصف حصے کو این آئی ٹی سری نگر کے نزدیک سیل کیا گیا تھا اور کئی جگہوں پر لوگوں کی پوچھ تاچھ بھی کی جاتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے زائرین کے لئے ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے بہت کم زائر موئے پاک کے دیدار سے فیضیاب ہوسکے۔

وادی میں اگرچہ مواصلاتی خدمات پر عائد پابندیوں کو بتدریج ہٹایا جارہا ہے تاہم انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز پر پابندیاں ہنوز جاری ہیں جس کے باعث صحافی، طلبا، تجار اور ای کامرس سے وابستہ لوگوں کی پریشانیوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔

سری نگر نیشن صحافیوں نے 'تنگ آمد بہ جنگ آمد' کے مصداق گزشتہ دنوں انٹرنیٹ کی بحالی کے لئے احتجاج کیا۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کے باعث انہیں اپنے دفتروں کے بجائے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے چھوٹے کمرے میں روزانہ بنیادوں پر ٹھٹھرتی سردی میں جانا پڑتا ہے۔

وادی کے دیگر ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی جمعہ کے روز معمولات زندگی کو بحال ہوتے ہوئے دیکھا گیا، بعض علاقوں میں بازار صبح کے وقت کھل گئے جبکہ بعض میں دوپہر کے بعد ہی دکان کھل کر شام گئے تک کھلے رہے، سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل جاری رہی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت بھی جزوی طور بحال ہوتی ہوئی نظر آئی۔

وادی میں سرکاری دفاتر اور بنکوں میں معمول کا کام کاج بحال ہوا ہے اور تعلیمی اداروں میں بھی امتحانات کے پیش نظر طلبا کی چہل پہل بڑھ گئی ہے تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پانچ اگست کے بعد یہاں کے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں سے وابستہ بیشتر لیڈران جن میں تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں، مسلسل حراست میں ہیں تاہم انتظامیہ نے مین اسٹریم لیڈروں کی رہائی سلسلہ شروع کیا ہے۔ مزاحمتی لیڈران بشمول سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق مسلسل خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کورونا نے توڑا اب تک کا تمام ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 24,805 نئے معاملے، 613 اموات

 ملک میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے درمیان گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 24،850 نئے معاملے رپورٹ ہونے کے سبب ہندوستان انفیکشن سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر روس کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ اس عرصے میں ریکارڈ 613 افراد کی موت ہوئی ہے۔

معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کا انتقال

 کوہ کن کے معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ء ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی نے سنیچر کے روز مختصر علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ موصوف قدیم دینی و علمی درسگاہ دار العلوم حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ (مہاراشٹرا) کے مہتمم بھی تھے۔

’کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو بتانا چاہیے‘

 کانگریس نے کہا ہے کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں، اس لیے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہiے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے۔