کشمیر میں مسلسل 38 ویں روز بھی معمولات زندگی درہم برہم

Source: S.O. News Service | Published on 12th September 2019, 11:10 AM | ملکی خبریں |

سرینگر،12؍ستمبر (ایس او نیوز؍ یو این آئی)  جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے پانچ اگست کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں وادی کشمیر بدھ کو مسلسل 38 ویں بھی بند رہی اور معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وادی میں فی الحال کسی بھی مقام پر کرفیو نافذ نہیں ہے لیکن دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے ایک مقام پر جمع ہونے پر پابندی عائد ہے اور ایسا امن وامان برقرار رکھنے کے لئے احتیاطاً کیا گیا ہے۔ ذرائع نے حالات کو پوری طرح پر امن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے دوران کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ اور امن وقانون کی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ہے۔

وادی میں بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) اور دیگر کمپنیوں کی انٹرنیٹ خدمات پانچ اگست سے معطل ہیں لیکن گزشتہ جمعہ سے تمام ٹیلی فون ایکسچینج سے لینڈ لائن خدمات شروع کر دی گئیں۔ وادی کشمیر میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں سے گاڑیاں بھی ندارد رہیں۔ دریں اثنا، کسی بھی طرح کے مظاہرے کو روکنے کے لئے یہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورس تعینات ہے۔

ادھر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ سے جموں کے بانہال کے درمیان مسلسل 38 ویں روز بھی ٹرین خدمات معطل رہیں۔ حریت کانفرنس (ایچ سی) کے اعتدال پسند دھڑے کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کے گڑھ مانے جانے والی تاریخی جامعہ مسجد کے تمام گیٹ پانچ اگست سے ہی بند ہیں۔ اس مسجد میں آخری مرتبہ نماز چار اگست کو ادا کی گئی تھی۔ جامعہ بازار اور گردونوح کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کافی پہلے کر دی گئی تھی ۔

سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں بھی تمام کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور ٹھپ ہیں اور ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑک پر نہیں ہیں لیکن نئے شہر، سیول لائنس اور بیرونی علاقوں میں سڑكوں پر پرائیوٹ گاڑیاں چلتی نظر آئیں۔ کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے سیول لائنس، تاریخی لال چوک میں سکیورٹی اہلکار بلٹ پروف جیکٹ میں ملبوس تعینات ہیں۔

سرکاری دفاتر اور بینکوں میں کام کاج بھی متاثر رہا ۔ اننت ناگ، کولگام، پلوامہ، شوپیاں، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ ، پٹن ، سوپور اور هندواڑہ سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں مسلسل 38 ویں روز بدھ کو بھی دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے ۔ اسی طرح کی رپورٹیں وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام سے بھی موصول ہوئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔