ایئر انڈیا کا طیارہ گرنے کی ایک نہیں کئی وجوہات

Source: S.O. News Service | Published on 9th August 2020, 10:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،8؍اگست (ایس او نیوز؍یواین آئی) ماہرین کا ماننا ہے کہ کیرالہ کے کوزی کوڈ میں جمعہ کی رات ہوئے جہاز حادثے میں تیز بارش کے ساتھ کئی وجوہات رہی ہوں گی۔ائر انڈیا ایکسریس کا بوئنگ 737-800 جہاز جب کوزی کوڈ پہنچا اس وقت وہاں تیز بارش ہورہی تھی۔ جب رن وے گیلا ہوتا ہے تو جہاز کو اترنے کے بعد رکنے کے لئے رن وے پر معمول کے مقابلے میں زیادہ دوری طے کرنے ہوتی ہے۔

شہری ہوا بازی کے ڈائرکٹوریٹ کے ایک افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ“یقینا جہاز رن وے پر کافی آگے جاکر اترا، لیکن اس کے باوجود جہاز کو روکنے کے لئے رن وے کی مناسب لمبائی پائلٹ کے سامنے کی جانب موجود تھی۔کوزی کوڈ ہوائی اڈے کا رن وے2.86 کلومیٹرطویل ہے۔ بوئنگ 737-800 کے مینویل کے حساب سے سمندر کی سطح سے کوزی کوڈ ہوائی اڈے کی اونچائی اور بارش کے پیش نظر چالیس ٹن تک وزن کے ساتھ لینڈنگ کے لئے دو کلومیٹر سے کافی کم آپریشنل رن وے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاز رن وے پر 900 میٹر پر اترا تھا۔ سامنے پورے دو کلومیٹر کا رن وے موجود تھا۔

افسر نے بتایا کہ اترنے کے بعد جہاز کی رفتار بھی زیادہ رہی ہوگی تبھی وہ رن وے کے پار نکل گیا۔ جہاز ہوا کی سمت کے ساتھ اتر رہا تھا۔ بارش کے ساتھ چل رہی تیز ہوا کی وجہ سے جہاز کی رفتار وقت پر کم نہیں ہوپائی ہوگی۔ڈی سی جی اے افسر نے بتایا کہ یہ سب صرف ممکنہ وجوہ ہوسکتی ہیں۔ جانچ کے بعد ہی حقیقی وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔ پائلٹ نے تین بار رن وے پر اترنے کی کوشش کی تھی۔ پہلے دو مرتبہ انہوں نے اترنا ٹال کر اوورسوٹ کیا۔ تیسری کوشش میں انہوں نے لینڈنگ کی، لیکن جہاز رن وے پر پار کرکھائی میں جاگری۔ حادثے میں دونوں پائلٹ سمیت 19 لوگوں کی موت ہوگئی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ممبئی میں طوفانی بارش سے سیلابی صورتحال، عام زندگی مفلوج، متعدد رہائشی کالونیاں زیر آب

ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں گزشتہ شب سے جاری بھاری بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں اس طرح کی بارش نے ایک بار پھر شہر کی عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔