’’عالمی گرو‘‘ ہندوستان ’’شمشان گھاٹ ‘‘ کیوں بنا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔رویش کمار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd May 2021, 2:43 PM | اسپیشل رپورٹس |

ہندوستان کو ’’عالمی گرو‘‘ بتاکر جنہوں نے معصوم عوام کو دھوکہ دیا ہے، ان لوگوں نے عوام کے ساتھ انتہائی سنگدلی و بے رحمی کا مظاہرہ کیا، لیکن اب حال اس قدر برا  ہوگیا ہے کہ عالمی گرو ہندوستان آج ’’مانیکارنیکا گھاٹ‘‘ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ آکسیجن نہ ملنے کے باعث کثیر تعداد میں لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کی شناخت بھی بناء آکسیجن کے کی جارہی ہے۔ اخبارات یہ ضرور لکھیں کہ ساری دنیا میں ہندوستان کی تعریف و ستائش کی جارہی ہے۔ جہاں تک ہمارے دواخانوں کا سوال ہے کہ ان دواخانوں میں عام اور خاص تمام قسم کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ یہ لوگ صرف دواخانوں میں ہی نہیں بلکہ دواخانوں کے باہر بھی متاثر ہورہے ہیں اور انہیں کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے ہفتہ اترپردیش کے ایک سینئر صحافی ونئے سریواستو لکھنؤ میں بار بار ٹوئٹ کرتے رہے اور مدد طلب کرتے رہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کے ذریعہ حکومت سے لے کر ذمہ دار عہدیداروں کو یہ بتایا کہ ان کے جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہوتی جارہی ہے۔

لاکھ ٹوئٹس کے باوجود کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں پہنچا اور ونئے سریواستو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئے۔ مذہبی سیاست کے نام پر اس ملک میں جہاں کورونا کو بھگانے کیلئے بتیاں جلائی گئیں، کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد پورا ایک سال دوسری لہر سے نمٹنے کی تیاریاں کرنے کا موقع ملا۔ کورونا وائرس کی تباہی و بربادی کے معاملے میں لکھنؤ مشہور بلکہ بدنام ہوگیا ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حال ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہوگئی ہے کہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اپنے عزیز و اقارب کیلئے دواخانوں میں جگہ اور آکسیجن نہیں مل پا رہی ہے۔

گزشتہ ہفتہ کتنی مرتبہ مجھے کسی کیلئے آکسیجن کا انتظام کرنے کی خاطر ایک دواخانہ کو فون کرنا پڑا اور کسی کیلئے انجیکشنس کی یاد دہانی کرانے کیلئے ایک دواخانہ کو فون کرنا پڑا۔ میرے لئے وہ تھکا دینے والا تجربہ تھا اور افسوس کامیابی کی شرح صفر رہی۔

میں اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ انفیکشن میرے اپنے اندر چور پولیس کا کھیل بھی کھیل رہا ہے۔ آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کرانے پر نتیجہ منفی رہا۔ خون کے کئی ایک معائنے کئے گئے لیکن سب کے سب بے فائدہ ثابت ہوئے، لیکن میرے ڈاکٹرس کو اس بات کا یقین تھا کہ میں کووڈ سے متاثر ہوچکا ہوں۔ گزشتہ رات میں خوشبو سونگھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگیا۔

اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ یہ صرف آپ کی اطلاع کیلئے ہے۔ کئی دنوں سے لوگ میرے موبائل پر ہزاروں پیامات بھیج رہے ہیں اور دریافت کررہے ہیں کہ میں کہاں ہوں۔ ’’پرائم ٹائم‘‘ کیوں نہیں کررہا ہوں ۔ ایسے میں مَیں نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں یہ بتاؤں کہ میری ایک درخواست ہے کہ آپ لوگ مجھے میسیج روانہ نہ کریں۔ آپ کی محبت ہی میری طاقت ہے۔ میں نے آپ کی یہ محبت ایک ایسے وقت پائی جبکہ کئی دوست مذہب کی آڑ میں ’’عظیم‘‘ بن گئے اور لوگوں نے سوچنا اور دیکھنا بند کردیا۔

ان حالات میں آپ نے میرے لئے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں، مجھے سننے کیلئے، مجھے دیکھنے کیلئے۔ اس لئے عام لوگوں کی بہ نسبت میری کہانی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ عام لوگوں کی کہانی میں ایک چوکیدار ہے جو حب الوطنی کے نام پر دھوکہ دیتا ہے اور ایک عام ہندوستانی کو بناء آکسیجن کے مرنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔

وہ دن یاد کرو جب ملک میں وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی شروع کردی تھی جس کے بعد ملک میں حالات انتہائی خوفناک ہوگئے تھے۔ خطرناک اور خوفناک مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے۔ لوگوں نے اس وقت اپنی بچت کی ہوئی رقم نکالنی شروع کی، ایسا لگ رہا تھا کہ رقومات کا ایک نہ رکنے والا بہاؤ شروع ہوگیا، لوگوں میں دہشت پھیلی ہوئی تھی۔ بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں، اسی طرح کے دہشت ناک مناظر اب بھی دیکھے جارہے ہیں۔

عام لوگوں کی سانسیں اُکھڑ رہی ہیں۔ چالاک سیاسی قائدین آکسیجن کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں اور لوگ فوت ہورہے ہیں۔ یہ وقت گزر جائے گا اور پھر کل یہی سیاست داں عظیم بن جائیں گے۔ ہمارے ملک میں مذہب کا مسئلہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، کہیں مسجد  اور کہیں مندر کا مسئلہ منظر عام پر آئے گا اور یہ سیاست داں مندر ۔ مسجد کے نام پر آپ کے محافظ بن کر آئیں گے۔

لیکن جب بات کورونا وائرس کے خلاف آپ کو بچانے کی ہوگی، آپ کو آکسیجن فراہم کرنے کی ہوگی تو پھر یہ لوگ وہاں سے رفوچکر ہوجائیں گے۔ اگر ہمارے پاس حقیقی جمہوریت ہوتی تو پھر حکومت کے خلاف فوجداری کارروائی ضرور کی جاتی لیکن آپ لوگ جس طرح واٹس ایپ یونیورسٹی سے ’’موگلی کھوتی‘‘ حاصل کررہے ہیں ،

اس کا سلسلہ جاری رکھئے۔ اس دور میں بھی امید کا دامن مت چھوڑیئے ، لیکن جھوٹی اُمید بھی مت رکھئے۔ ہمارے سیاست داں بڑے ظالم ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے عوام کو مذہب کا زہر دیا اور پھر عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ دھوکہ بازوں کی یہ ٹولی اب استدلال پیش کررہی ہے کہ ملک کی نصف آبادی بیمار ہوتی ہے تو پھر ہر دواخانہ ناکام ہوجائے گا، لیکن ان لوگوں نے جن لوگوں کو بیوقوف بنایا، ان سے یہ کبھی نہیں کہا کہ ملک میں کتنے دواخانے تعمیر کئے گئے؟

ان عظیم سیاست دانوں نے عوام کیلئے کتنے وینٹیلیٹرس نصب کئے؟ ان لوگوں نے آخر ملک میں کتنے ٹسٹنگ سنٹرس کا قیام عمل میں لایا؟ اسی طرح صحافی بھی یہ پوچھتے رہ گئے کہ پی ایم کیرس کی رقم کہاں گئی؟ لیکن ہمارے حکومت کی انانیت و جہالت ساتویں آسمان پر پہنچ گئی۔ اس نے جواب دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ خیر! چھوڑیئے ان باتوں کو، فی الوقت تمام تر کوشش اس بات کی ، کی جارہی ہے کہ نعشوں کو سرخیوں سے ہٹایا جائے۔

’’گودی میڈیا‘‘ پھر سرگرم ہوجائے گا، ایک یا دو دن انتظار کیجئے۔ بہت جلد یہ خبریں آئیں گی کہ حالات قابو میں ہیں، پھر ایک رپورٹ منظر عام پر آئے گی جس میں بتایا جائے گا کہ کس طرح وزیراعظم نے دن رات جاگ کر کووڈ۔19 سے ہندوستانیوں کو بچانے کی کوشش کی۔ یہ ایسے ہی ہوا جیسے یہاں پائپ لائن لگادیں اور آکسیجن وہاں پہنچا دیں۔

گودی میڈیا کی سرگرمی، جھوٹی خبریں، وزیراعظم کی جھوٹی تعریف و ستائش اور جھوٹے دعوؤں کے بیچ لوگ پھر سے شمشان گھاٹوں میں اپنے عزیزوں کی نعشیں جلانے کیلئے واپس ہوجائیں گے لیکن ان جلتی ہوئی نعشوں کے بارے میں سرخیاں غائب کردی جائیں گی۔یعنی ان جلتی ہوئی نعشوں کے بارے میں جو سرخیاں منظر عام پر آرہی تھی، وہ قرنطینہ میں چلی جائیں گی اور دوبارہ یہ لوگ عالمی گرو ہندوستان کے عظیم آقاؤں کی طرح دوبارہ جینا شروع کردیں گے۔

ایک اور چیز بھی ہوسکتی ہے وہ یہ کہ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن جو رام دیو کی ادویات فروخت کرتے ہیں، انہیں برطرف کردینا چاہئے اور ایسا ہو بھی سکتا ہے تاکہ مودی جی مزید عظیم بن کر اُبھریں۔اس قسم کی صرف دوچار سرخیوں کی ضرورت ہے۔ سرخیوں کی کوئی قلت نہیں۔ ہاں آکسیجن میں کچھ کمی ہوسکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: شمالی کینرا میں کووڈ وباء کا بدلتا منظر نامہ : سب سے آخری پوزیشن والا ضلع پہنچ گیا سب سے آگے ؛ کون ہے ذمہ دار ؟

کورونا کی دوسری لہر جب ساری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تو ضلع شمالی کینرا پوزیٹیو معاملات میں گزشتہ لہر کے دوران سب سے آخری پوزیشن پر تھا۔ لیکن پچھلے دو تین دنوں سے بڑھتے ہوئے پوزیٹیو اورایکٹیو معاملات کی وجہ سے اب یہ ضلع ریاست میں سب سے  اوپری درجہ میں پہنچ گیا ہے۔ بس ...

کورونا کے دور میں عیدالفطر۔۔۔۔از: مفتی محمد مشتاق تجاروی

عید الفطر جتنی خاموشی سے اس دفعہ آرہی ہے اتنی چپکے سے تو شاید کبھی نہ آئی ہوگی۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سال گزشتہ بھی ایسے ہی حالات تھے۔ یہ بات بالکل صحیح بھی ہے۔ گزشتہ سال بھی اِن دنوں کورونا کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن تھا اور اس وقت بھی عید کے ایام اسی طرح خاموشی سے ...

اسرائلی دہشت گردی عرب حکمرانوں کے لئے درس عبرت! ورنہ تمہارے عوام تمہیں دفن کرنے کے لئے دو گز زمین بھی نہیں دیں گے۔۔۔۔از:حکیم نازش احتشام اعظمی

سب سے پہلے ارض مقدس کی تازہ خبر ملاحظہ فرمائیں ،جہاں گزشتہ جمعہ کے روز یعنی 2 مئی 2021 سے اسرائیل کی دہشت گرد فوج نے کشتوں کے پشتے لگا رکھے ہیں اور قبلہ اول کے درو دیوار روزہ دار اور نہتے فلسطینیوں کے لہو سے لالہ زار بنے ہوئے ہیں۔ جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھوں میں ہے ابھی بھی نمرود ...

عید کی خریداری ، دوسروں کے گھروں میں بھی خوشیاں ضرور پہنچیں ۔۔۔۔از: محمد نفیس خان ندوی

 کورونا وبا ءکے سبب ہلاکتوں اور لاک ڈاؤن سے درپیش مشکلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نظام زندگی مفلوج ہے، پیٹ کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے، ضرورتوں نے لا چارو بے بس کردیا ہے، اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو جو لوگ ابھی ناؤنوش کے محتاج ہیں کیا بعید کل  وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ...

کووِڈ مریضوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم۔ وائرس موجود نہ ہونے کی حقیقت کیا ہے؟! .......... ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ بھٹکل

جب سے کورونا کی وباء پورے عالم میں عام ہوئی ہے، اس کے تعلق سے روز نت نئی باتیں سوشیل میڈیا پر بہت زیادہ پھیلائی جارہی ہیں جس میں بیشتر گمراہ کن منفی پروپگنڈا ہوتا ہے۔اس وقت کورونا کے متعلق ’سازشی نظریہ‘ (conspiracy theory) کے جتنے پہلو ابھارے جارہے ہیں اور جس زور و شور کے ساتھ اچھالے ...

بھٹکل: کورونا سے کاروبار زندگی متاثر، تجارتی سرگرمیاں لاک ڈاون کی نظر۔ پھیکی ہوگی اس بار کی بھی عید

گزشتہ سال کی طرح امسال بھی کور و نا وائرس کے ساۓ میں عید الفطر کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں ، کیوں کہ بھٹکل شہر کے عوام  کی ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ ماہ شعبان میں ہی عیدالفطر کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں لیکن اس بارعید کی تیاریوں کے حوالے سے ماضی کی طرح جوش وجذ بہ نظر نہیں آیا ، جس ...