منگلورو ڈی سی کو دھمکی دینے کے الزام میں سری رام سینا کارکن گرفتار لیکن ڈی سی کا بھی کیا گیا تبادلہ؛ ڈاکٹر راجیندر نے مینگلور پہنچ کر لیا ڈی سی کا چارج

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 31st July 2020, 12:05 AM | ساحلی خبریں |

منگلورو30/جولائی (ایس او نیوز) رام سینے کارکن کی جانب سے دکشن کنڑا ڈپٹی کمشنر کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سندھو بی روپیش کا ہی تبادلہ کرنے کی واردات پیش آئی تھی، ایک طرف رام سینے کے کارکن کو گرفتار کرلیا گیا وہیں سندھو  بی روپیش کی جگہ پر نئے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے آج جمعرات کو ڈاکٹر کے وی راجیندرا نے  چارج سنبھالا۔

آج جمعرات کو  جیسے ہی ڈاکٹر کے وی راجیندرا مینگلور ڈی سی کا چارج سنبھالنے دفتر پہنچے،  سندھو بی روپیش نے ان کا ڈی سی دفتر میں استقبال کیا اور اپنی ذمہ داریاں اُن کے سپرد کیں۔ ڈاکٹر راجیندر نے باپوجی میڈیکل کالج داونگیرے سے گریجویٹ کیا ہے اور وہ ایک ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سن 2013 میں سیول سروس امتحان میں 32 ویں رینک سے امتیازی کامیابی درج کی تھی۔

مینگلور میں ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالنے سے پہلے ڈاکٹر راجیندر بیلگاوی ضلع پنچایت کے چیف ایکزی کوٹیو آفسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، وہ اس سے قبل پُتور میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے  کام کرنے کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ عیدقرباں کے موقع پر ناخوشگوار حالات پیدا کرنے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی تنبیہ کرنے پر سوشیل میڈیا میں سری رام سینا کارکن کی طرف سے منگلورو کی ڈپٹی کمشنر سندھو بی روپیش کو کاٹ ڈالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ڈی سی کے بیان کو متنازعہ بنائے جانے کے بعد ریاستی حکومت نے ان کا فوری طور پر تبادلہ کردیا تھا۔مگر بدھ کے دن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو قتل  کرنے کی دھمکی دینے والے ملزم سری رام سینا کے کارکن رنجیت (20) کو موڈبدری سے گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رنجیت ایک ویلڈر ہے اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈپٹی کمشنر سندھو نے اپنے افسران کے ساتھ میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ جانوروں کی غیر قانونی رفت اور ذبیحہ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی اور اس کے ساتھ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔لیکن جب سوشیل میڈیا پر اس بیان کو متنازعہ رنگ دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو ٹرانسفر کردیا گیا تو ریاستی حکومت پر اپوزیشن نے زبانی حملہ شروع کردیا۔ ایم ایل اے یوٹی قادر نے اس تبادلے پر سخت اعتراض جتایا اور اسے ایک سیاسی اقدام بتایا جبکہ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر سدارامیا نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایک ایماندار افسرکو ایڈی یورپا نے سزادینے کا کام کیا ہے۔سندھو روپیش نے کورونا واریئر کے طور پر بڑا ہی عمدہ کام کیا تھا اور ایڈی یورپا نے جس افسر کوجان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی اسی کو ٹرانسفرکردیا ہے۔

 ادھر ضلع انچارج وزیر کوٹا سرینواس پجاری نے اس ٹرانسفر کو حسب معمول کارروائی قرار دیتے ہوئے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے ساتھ زبانی جنگ شروع کردی ہے۔ یوٹی قادر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے پجاری نے کہا کہ ”قادر نے  معمول کے مطابق کی گئی تبادلے کی کارروائی کو سیاسی رنگ دیا ہے۔ قادر کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملزمین کو پناہ دینے والا ان کا دور اقتدار نہیں ہے۔“

خیال رہے کہ سندھو بی روپیش کو اب مینگلور سے بنگلور ٹرانسفر کیا گیا ہے جہاں وہ   الیکٹرانک ڈیلیوری سٹی زن سروس کی ڈائرکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔

ایک نظر اس پر بھی

کیرالہ میں پیش آیا چٹان کھسکنے کا خطرناک حادثہ۔ 15ہلاک اور60سے زائدافراد ہوگئے لاپتہ۔ ملبے میں دب گئیں 30جیپ گاڑیاں 

کیرالہ کے مشہور تفریحی مقام ’مونار‘ سے قریب ’ایڈوکی‘ میں چٹان کھسکنے کا ایک خطرناک حادثہ پیش آیا جس میں تاحال 15افراد ہلاک ہونے اور 60سے زیادہ لوگ لاپتہ ہونے کے علاوہ 30جیپ گاڑیاں چٹان کے ملبے میں دب کر رہ جانے کی خبر ہے۔