کرناٹک میں عید الفطر کی نماز کو لے کر اہم فیصلہ ، امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے کیا یہ بڑا اعلان

Source: S.O. News Service | Published on 19th May 2020, 5:26 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،19؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کورونا وائرس کی وبا کے سبب ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ کرناٹک کی ریاستی حکومت نے بھی  مرکزی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 31 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے فیصلے کے بعد کرناٹک کی امارت شرعیہ نے آنے والی عید کے پیش نظر مسلمانوں کیلئے ضروری ہدایات جاری کی ہیں ۔ ریاست کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کی جانب سے جاری تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرتبہ عیدگاہوں میں عید کی نماز ادا نہیں کی جائے گی ۔ مسجدوں میں صرف 4 افراد پر مشتمل مسجد کا عملہ اول وقت میں عید الفطر کی نماز ادا کرے گا ۔

امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے یہ ہدایت جاری کی ہے کہ عید کے دن لوگ گھروں میں انفرادی طور پر دو یا چار رکعت چاشت کی نفل نماز ادا کرلیں ۔ امیر شریعت نے کہا ہے کہ موجودہ وبائی دور میں کسی بھی قسم کا اجتماع  نا مناسب ہے ، ان حالات میں امید ہے کہ  اللہ تعالٰی سب کو نماز عید کا ثواب عطا فرمائے گا ۔

امارت شرعیہ نے مسلمانوں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ عید کے دن مصافحہ اور معانقہ سے گریز کریں۔ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔ رشتہ داروں ، دوست و احباب کے پاس ملاقات کیلئے جانے سے گریز کریں ۔ عید کے بعد بھی سیر و تفریح کیلئے سفر نہ کریں۔ عید سے قبل صدقہ فطر ادا کریں ۔ امیر شریعت کرناٹک نے فی شخص کیلئے70 روپے صدقہ فطر کی رقم مقرر کی ہے۔ مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا ہے کہ عید کا دن بھی دعاؤں کی قبولیت کا موقع ہوتا ہے۔ لہذا عید کے دن خوب دعاؤں کا اہتمام کریں ۔ امارت شرعیہ کرناٹک نے یہ بات بھی کہی ہے کہ عید کے بعد مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کیلئے حکومت سے درخواست کی جائے گی ۔ دیگر مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ ملکر یہ کوششیں کی جائیں گی ۔

واضح رہے کہ حال ہی میں کرناٹک میں عید کی نماز کا معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا تھا ۔ سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم اور بنگلورو کے رکن اسمبلی این اے حارث نے عیدگاہوں اور مسجدوں میں عید کی نماز کیلئے اجازت دینے کے سلسلے میں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کو مکتوب لکھا تھا۔ لیکن اب ریاست کے امیر شریعت کی صدارت میں علما کرام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ کورونا کے مرض کی وجہ سے عیدگاہوں میں عید الفطر کی نماز ادا نہیں کی جائے گی ۔ علما کرام نے یہ فیصلہ کئی اہم میٹنگوں اور طب کے ماہرین سے مشوروں کے بعد کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

ورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ پوری دنیا بھر کے ممالک بھی اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

کرناٹک میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں 267 نئے معاملات ، داونگیرے میں مریض کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 53

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگل کی شام 5 بجے تک ریاست میں 267 نئے کو رونا مریض پائے جانے سے ریاست میں کووڈ۔19 سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2494 تک پہنچ گئی اور داونگیرے میں مزید ایک مریض کے ریاست میں فوت ہونے سے ریاست میں اس وبائ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہوگئی۔

اُڈپی ضلع میں کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لئے کنداپور اور بیندور میں کووِڈ اسپتالوں کا قیام۔ ڈپٹی کمشنر جگدیش کا اعلان

ضلع اُڈپی کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیش نے بتایا کہ ضلع میں کووِڈ 19سے متاثرین کی تعداد میں روزبرو ز اضافہ کو دیکھتے ہوئے کنداپور اور بیندو ر میں 400 بستروں کی سہولت کے ساتھ کووِ ڈ اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔