کرناٹک بحران: پارلیمنٹ احاطہ میں کانگریس کا مظاہرہ، راہل-سونیا نے لگایا ’جمہوریت بچاؤ‘ کا نعرہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 11:29 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجسنی) کرناٹک اور گوا میں جاری سیاسی گھمسان کے پیش نظر کانگریس نے جمعرات کو پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنا دیا۔ کانگریس کے اس احتجاجی مظاہرہ میں یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی شامل ہوئے۔ پارلیمنٹ احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے اس احتجاجی مظاہرہ میں کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کرناٹک اور گوا میں اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کر رہی ہے۔ اس دوران سبھی لیڈروں نے ’جمہوریت بچاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔

دوسری جانب کرناٹک میں چل رہا سیاسی ڈرامہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سبھی باغی اراکین اسمبلی آج شام 6 بجے اسپیکر کے سامنے پیش ہوں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اراکین اسمبلی چاہیں تو استعفیٰ دے سکتے ہیں اور ضرورت پڑی تو انھیں سیکورٹی بھی فراہم کی جائے۔ اس سے قبل اسپیکر رامیش کمار نے کہا تھا کہ ابھی تک انھوں نے کوئی استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ استعفیٰ منظور کرنے کا ایک قانون ہے اور وہ قانون کے مطابق ہی کام کریں گے۔ اسمبلی اسپیکر نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ استعفیٰ دینے والے 13 اراکین میں سے 9نے جو استعفیٰ نامہ بھیجا ہے وہ مقرر کردہ طریقے کے مطابق نہیں ہے۔

موجودہ بحران کو لے کر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے کابینہ میٹنگ بلائی ہے۔ اس درمیان کرناٹک اسمبلی کے آس پاس دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ 11 سے 14 جولائی تک بنگلورو واقع اسمبلی کے آس پاس دفعہ 144 نافذ رہی گی۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی تک کل 16 اراکین اسمبلی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ بدھ کو کرناٹک کے وزیر ڈی کے شیو کمار باغی اراکین اسمبلی کو منانے ممبئی پہنچے تھےجہاں پولس نےا ن کو حراست میں لے لیا تھا اور پھر جبراً انھیں بنگلورو واپس بھیج دیا گیا۔

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اس سیاسی بحران کے پیچھے پی ایم مودی اور امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی رکن اسمبلی اور کارکنان شورش پسند ہیں۔ میں اس کی تنقید کرتا ہوں۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک میں ایک ہی دن 6257 کورونا پوزیٹیو معاملات ، 86 اموات

کرناٹک میں کورونا وائرس کا خوفناک پھیلاؤ رکنے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، ہر گزرتے لمحے اور دن کے ساتھ کورونا وائرس کے نئے معاملات میں اضافہ ہی ہوتاجار ہا ہے۔ ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد تشویشناک حد تک اضافہ یکھا جارہا ہے۔ ریاست میں ایک ہی دن ...

کرناٹک: ایس ایس ایل سی سپلیمنٹری امتحانات ستمبر میں منعقد کئے جائینگے

ایس ایس ایل سی سپلیمنٹری امتحان آئندہ ماہ ستمبر میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دو ایک دن میں امتحان کی تاریخ اور ٹائم ٹیبل کا اعلان کردیا جائے گا۔ یہ بات کرناٹک سکینڈری ایگزامنیشن بورڈ کی ڈائرکٹر وی سو منگلا نے کہی۔

بنگلور میں احتجاجیوں اور پولس کے درمیان زبردست جھڑپ؛ پولس فائرنگ میں دو کی موت؛ فیس بُک پر توہین آمیز پوسٹ پرعوام نے کیا تھا پولس تھانہ کا گھیراو

 فیس بُک پر مبینہ طور پر  پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز مسیج پوسٹ کرنے پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے بنگلور کے جی ہلی پولس تھانہ کے باہر  جمع ہوکرایک فرقہ کے لوگوں نے جب احتجاج کیا تو یہی احتجاج بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں بتایا جارہا ہے کہ ...

اننت کمار ہیگڈے نے لگایابی ایس این ایل میں دیش دروہی افسران موجود ہونے کا الزام

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے پہچانے جانے والے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے الزام لگایا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے اندر دیش دروہی افسران بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے آئندہ دنوں میں اس کی نج کاری (پرائیویٹائزیشن) کیا جائے گا۔

بنگلور: ٹرانسفرس کے احکامات ملتوی کرانے میں مبینہ طور پر با رسوخ اساتذہ کی لابی شامل، چار سال سے ڈگری کالجوں کے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے

ریاست کرناٹک کے سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں خدمات انجام دے رہے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے ہیں، جس کے سبب انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس تعلق سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ  چند با رسوخ لکچررس کی طرف سے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے تبادلوں کی کاروائی ملتوی ...

کورونا: ہندوستان میں ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار کے پار، 24 گھنٹے میں پھر 60 ہزار سے زائد کیسز درج

ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے قہرکے درمیان اس جان لیوا وبا سے شفایابی حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 56 ہزار سے زیادہ افراد کی شفایابی کے بعد اب تک تقریبا 16.40 لاکھ صحت مند ہوئے ہیں۔