چین نے 20 نہتے فوجیوں کے قتل کو جائز کیسے ٹھہرایا، اس پر دباؤ کیوں نہیں ڈالا گیا؟ راہل گاندھی

Source: S.O. News Service | Published on 7th July 2020, 9:45 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،7؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان پیر کے روز یہ خبر موصول ہوئی کہ چینی فوج دو کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج ہی ایل اے سی سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

دریں اثنا، راہل گاندھی نے لداخ میں چین کی فوج کے پیچھے ہٹنے اور چینی موقف سے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے بات چیت کے حوالہ سے سوال اٹھائے ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کچھ اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دوران ہندوستان کی جانب سے ایل اے سی پر جمود قبل پر زور کیوں نہیں دیا گیا۔

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں این ایس اے ڈووال اور چینی اسٹیٹ کاؤنسلر وانگ یی کی بات چیت کو دونوں فریقین کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کو شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا قومی مفاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔ حکومت ہند کا فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔

اس کے بعد (کچھ اہم سوالات)

1. جمود قبل پر اصرار کیوں نہیں کیا گیا؟

2. چین ہمارے علاقہ میں 20 نہتے جوانوں کے قتل کو جائز کیوں ٹھہرا رہا ہے؟

3. وادی گلوان میں ہماری علاقائی خود مختاری کا ذکر کیوں نہیں ہو رہا ہے؟

غور طلب ہے کہ پیر کے روز وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کی چینی اسٹیٹ کاؤنسلر وانگ یی سے علاقہ میں قیام امن کے حوالہ سے بات چیت ہوئی ہے۔ اس کے بعد ایسی خبریں بھی موصول ہوئیں کہ دونوں ممالک کی یافواج لداخ کی ایل اے سی سے باہمی مفاہمت کے بعد پیچھے ہٹنا شروع ہو گئی ہیں اور دنوں فریقین کے فوجیوں کے درمیان ایک ’بفر زون‘ بنا دیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ: آندھرا کے خلاف تلنگانہ حکومت پہنچی سپریم کورٹ

 تلنگانہ حکومت اے پی حکومت کے رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی۔ حکومت نے عدالت عظمی سے خواہش کی کہ وہ اس پروجیکٹ کے احکام منسوخ کرے اور ٹنڈر کے عمل کو بھی روکا جائے۔

جموں۔کشمیرمیں آرٹیکل 370 کے خاتمہ کا ایک سال مکمل، ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نےاحتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام کرنے اور دیگر کئی اہم اقدامات نفاذ کرنے کےحکومت کے فیصلےکو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کشمیر میں احتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کردی ہے۔ تاہم ممبئی میں مقیم کشمیری طالب علم ...

کشمیر میں دوسرے روز بھی کرفیو جیسی پابندیاں

انتظامیہ کی جانب سے کرفیو ہٹائے جانے کے اعلان کے برعکس وادی کشمیر بالخصوص ضلع سری نگر کے تمام علاقوں میں بدھ کے روز بھی سخت ترین پابندیاں عائد رہیں اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ان کی گاڑیوں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔