مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا، رافیل معاہدہ میں پی ایم اوکادخل نہیں، تمام عرضیاں ہوں مسترد

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th May 2019, 1:41 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 26 مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن نے رافیل لڑاکا طیارے معاہدے میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے اسے سب سے بڑا مسئلہ بنایا۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس معاہدے کے لئے براہ راست طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار بتایا۔ان تمام الزاموں کے باجوود ملک کی عوام نے نریندر مودی کو منتخب کیا اور بی جے پی کو اکثریت دی،اب جبکہ نریندر مودی دوسری بار وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں تو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے رافیل سے منسلک عرضیاں مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سپریم کورٹ کو بھیجے گئے تحریری جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ رافیل معاملے پر نظر ثانی پٹیشن مصنوعی اور غلط الزامات پر مبنی ہے۔حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وزارت دفاع نے سپریم کورٹ سے کوئی معلومات نہیں چھپائی ہے۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو اس معاہدے میں وزیر اعظم کے دفتر کے دخل والے الزام پر بھی جواب دیا۔حکومت نے کورٹ کو بتایا کہ اس دفاعی سودے میں وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے کوئی متوازی بات چیت نہیں کی گئی ہے۔یہ تمام دلائل دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ اس سلسلے میں دائر پٹیشن چوری ہوئی فائلوں سے لی گئی کچھ ایک معلومات پر مبنی ہے، جس کی غلط تشریح کی گئی ہے۔حکومت نے کہاکہ کسی بھی مداخلت سے ہندوستانی فضائیہ کے طریقہ کار پر اثر پڑ سکتا ہے۔رافیل ڈیل میں مداخلت کرنے اور معاہدہ کی جانچ کرانے کی بیجا کوشش کی جا رہی ہے۔عدالت کو پہلے بھی فیصلے میں کوئی غلطی نہیں ملی تھی۔کیگ کی رپورٹ نے بھی حکومت کے اقدامات کو برقرار رکھا ہے،لہذا عرضیاں مستردکی جائیں۔بتا دیں کہ فرانس کی داسو کمپنی سے ہندوستانی فضائیہ کے لئے رافیل لڑاکا طیارے خریدے جا رہے ہیں۔یہ معاہدہ کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت میں ہواتھا۔راہل گاندھی الزام لگاتے رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کی حکومت کے دوران طیارے کی جو ڈیل ہوئی تھی، اس سے تقریبا تین گنا قیمت میں مودی حکومت کے دوران رافیل خریدا جا رہا ہے۔راہل یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ طیارے بنانے کی کنٹراکٹ ایچ اے ایل کمپنی کے بجائے صنعت کار انل امبانی کی نو تشکیل شدہ کمپنی کو دے کر انہیں 30000 کروڑ کا فائدہ پہنچایا گیا۔انہیں تمام الزامات پر سپریم کورٹ سے ایک بار مودی حکومت کو راحت مل چکی ہے، لیکن فی الحال نظر ثانی درخواست پر کورٹ سماعت کر رہا ہے اور انہیں نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ مرکز نے سپریم کورٹ کے سامنے رکھا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔