قطر کی مرکزی جیل میں‌ کرونا کی وبا پھیلنے کی اطلاعات، لرزہ خیز اعدادو شمار جاری

Source: S.O. News Service | Published on 19th May 2020, 9:36 PM | خلیجی خبریں |

دوحہ،19؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) قطر کے دارالحکومت دوحا میں قائم مرکزی جیل میں کرونا کی وبا پھیلنے کی اطلاعات کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے دوحا سینٹرل جیل طبی سہولیات، قیدیوں اور عملے کی صحت کےحوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے پیر کے روز قطری جیل حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دوحا کی سنٹرل جیل میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد قیدیوں اور جیل کے عملے کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے قطری حکام سے اس بات پر زور دیا کہ وہ معاشرتی علیحدگی کو یقینی بنانے کے لیے قیدیوں کی تعداد کم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جیل میں ہر فرد معلومات اور مناسب طبی نگہداشت حاصل کررہا ہے۔ نیز ذاتی حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ قیدیوں کو سینی ٹائرز، ماسک، جراثیم کش مواد، ادویات اور دستانوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں وبا سے بچنے کے لیے ضروری تربیت فراہم کی جائے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی ڈویژن کے نائب ڈائریکٹر مائیکل پیج نے کہا کہ قطری حکام کو کرونا وائرس کے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے بچنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرنا ہوگی۔ قیدیوں ، جیل کے عملے اور دوحا کے باشندوں کو انفیکشن کا خطرہ لاحق ہے۔ بزرگ قیدیوں، بدکاری یا دیگر معمولی جرائم کے تح قید افراد کو رہا کرنا ہوگا۔

حالیہ دنوں میں ہیومن رائٹس واچ نے چھ غیر ملکی قیدیوں کا انٹرویو لیا جنہوں نے قطر کی واحد مرکزی جیل میں ابترحالات کے بارے میں بتایا کہ متعدد قیدیوں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔ زیر حراست افراد نے بتایا کہ گارڈز نے حالیہ ہفتوں میں وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے بارے میں انہیں غیر رسمی طور پر آگاہ کیا تھا ، حالانکہ قطری حکام نے عوامی طور پر اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

حکام نے اس وارڈ کو بند کر کے الگ تھلگ کردیا جہاں ممکنہ وبا پھیل گئی تھی لیکن اس سے قبل نہیں کہ کچھ قیدیوں کو زیادہ ھجوم والے کمروں اور صحت و صفائی کے حوالے سے ناقص انتظامات کی جگہوں پر منتقل کردیا تھا۔ وہاں پر عمر رسیدہ افراد اور کم زور صحت کے حامل افراد کے کرونا کاشکار ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔

جیل حکام نے قیدیوں کو غیر متضاد اور نامکمل معلومات دیں۔ ایک قیدی نے بتایا کہ 2 مئی 2020 کو ایک جیل گارڈ نے قیدیوں کو اطلاع دی کہ دوسرے وارڈ میں پانچ قیدی کرونا کا شکار ہوئے ہیں۔ اس خبر سے جیل میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک قیدی نے بتایا کہ ہمارے پاس 96 افراد کے بستر ہیں اور اس وارڈ میں ڈیڑھ سو کے قریب قیدی موجود ہیں۔حالیہ ایام میں قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 6 مئی کو جیل کے ایک اور محافظ نے اسے بتایا تھا کہ آج تک 47 کیسز درج کیےگئے ہیں۔

قیدیوں نے بتایا کہ انتظامیہ ان کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتی ہے۔150 قیدیوں کے لیے صرف آٹھ باتھ روم ہیں۔ قیدی نے وضاحت کی لوگ فرش پر [جیل] مسجد میں ، لائبریری میں سوتے ہیں ، اور سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں ، اور ہمیں نہیں معلوم کہ کون ہمیں واپس لے سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہمیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کیا جانا چاہیے۔

قیدیوں نے بتایا کہ گارڈز اور جیل کے عملے نے گذشتہ ہفتے ماسک اور دستانے پہننا شروع کردیئے تھےاور طبی عملے نے ان کے وارڈ میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ ایک قیدی نے بتایا کہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ کون بیمار ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے وارڈ میں اس شخص کو فلو ہے لیکن کیا یہ فلو ہے ، کیا یہ وائرس ہے ، کون جانتا ہے؟ کوئی بھی تصدیق نہیں کررہا ہے۔ مئی تک ، نرسیں ہمیں چیک کرنے آتی تھیں اور اگر ہم بیمار ہیں اور ہم اسپتال جانا چاہتے ہیں تو ہم جاسکتے تھے مگراب وہاں نرسیں یا اسپتال میں جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سعودی عرب نے پرائیویٹ ملازمین کو 2 سال تک نصف تنخواہ کی ادائیگی کا کیا اعلان

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پیش نظر حکومتوں نے عوام، مزدوروں اور ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کے اعلانات کر رکھے ہیں اور اس سلسلہ میں متعدد ممالک کی حکومتوں نے ملازمین کو خصوصی ریلیف فراہم کرنے کے انتظامات بھی کئے ہیں۔

دبئی سے مینگلور جانے کے لئے350 سے زائد درخواستیں موصول،کن کن کو کریں روانہ ؟ ذمہ داران کے سامنے اہم سوال

چارٹرڈ فلائٹ پر دبئی میں پھنسے بھٹکل اور اطراف کے لوگوں کو مینگلور روانہ کرنے کے تعلق سے سینکڑوں  لوگوں کے رابطہ کرنے پر دبئی میں موجود بھٹکل کے ذمہ داران سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دبئی لاک ڈاون میں پھنسے ہیں تو اُنہیں انڈیا روانہ کرنے کے لئے کس طرح کے ...

کورونا وباء اور لاک ڈاون کے چلتے دبئی میں پھنسے بھٹکل کے عوام کے لئے زبردست خوش خبری؛ 11 جون کو مینگلور کے لئے نکل رہی ہے چارٹرڈ فلائٹ

کورونا وباء کے بعدلاک ڈاون کے چلتے دبئی اور عرب امارات میں پھنسے بھٹکل اور اطراف کے عوام کے لئے ایک زبردست خوش خبری یہ ہے کہ  بھٹکل کے معروف بزنس مین اور نُہیٰ جنرل ٹریڈنگ کمپنی    کے مالک جناب عتیق الرحمن مُنیری نے  عوام کی تکلیفات کو دور کرنے اور اُنہیں اُن کے وطن  واپس ...