کرناٹک کے چن پٹن میں سی اے اے، این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج، سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی، سی ایم ابراہیم کے علاوہ جے این یو کی طالبہ امولیا کی شرکت

Source: S.O. News Service | Published on 16th February 2020, 10:24 AM | ریاستی خبریں |

چن پٹن،16/ فروری (ایس او نیوز) چن پٹن کے شہریوں کی جانب سے 14/ فروری بروز جمعہ دوپہر 3.30/ بجے بمقام پیٹا اسکول گراؤنڈ چن پٹن شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر ورکن کونسل سی ایم ابراہیم نے کہا کہ آئین مخالف سی اے اے قانون کے خلاف ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں عوام بالخصوص خواتین احتجاج کررہی ہیں، ان کے جذبہ کو سلام عرض ہے۔ انہو ں نے کہا کہ جو قوم خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود سے نہیں گھبرائی وہ آج کے نریندرمودی اور امیت شاہ سے کیا خوف کھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو شہریت کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ ہندوستان کو آزاد کرانے میں سب سے زیادہ کردار مسلمانوں نے نبھا یا ہے۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے این آر سی جیسے متنازعہ قوانین میں عوام کو الجھارہی ہے، لیکن دہلی کے عوام نے ثابت کردیا کہ عوام نفرت کی سیاست برداشت نہیں کریں گے اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شرمناک شکست سے دو چار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ومقامی رکن اسمبلی ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا کہ سابق رکن اسمبلی سی پی یوگیشور کو اب ہندو دھرم پر پیار آگیا ہے، جنہوں نے رام نگرم میں آر ایس ایس کے یونیفارم کے ساتھ آر ایس ایس کی ریلی میں حصہ لیا۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ یوگیشور رام نگرم ضلع کی ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کلڈکا پربھا کر بھٹ کی ایما ء پر کیا جارہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ این آر سی کا نفاذ مودی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے کیا جارہا ہے اور اس قانون سے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ہندوؤں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہو ں نے کہا کہ جس طرح مسلم ماں بہنیں جوش کے ساتھ احتجاج کررہی ہیں، تمام طبقات کو اسی طرز پر احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسام میں سی اے اے لاگو کرنے سے تقریباً 19/ لاکھ افراد کے نام شک کے دائرہ میں آگئے جن میں ہندوؤں کی تعداد 14/ لاکھ ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس ونگ لیڈر امولیا بسونا نے بھی خطاب کرتے ہوئے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے مضر اثرات پر مفصل روشنی ڈالی۔ امولیا نے بالخصوص نوجوانوں کے اندر آزادی کے نعرے بلند کرکے ایک جوش پیدا کیا۔ جلسہ کا آغاز قرأت سے ہوا۔ سید سعادت مہدی، صدر انجمن مہدویہ نے نظامت کی۔ مہمانوں کا استقبال سابق نائب صدر بلدیہ واصل علی خان نے کیا اور شکریہ شبیر اللہ بیگ نے ادا کیا۔ اجلاس میں حضرت مشائخ سید ولی اللہ ابراہیمی، مولانا منیب رضا، شرت چندرا، حضرت مشائخ سید ثناء اللہ کو ثرمہدوی، سید اقبال،جئے متو، لنگیش کمار، رامپور راجنا،ایس کے کلیم اللہ سقاف، ذکی احمد خان، ایس کے سید دانش سقاف، لیاقت علی خان، عصمت پاشاہ نظامی ودیگر مقامی عمائدین اور کثیر تعداد میں خواتین حاضر رہیں۔ آخر میں تمام حاضرین اور شہ نشین پر موجود مہمانوں نے کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھا جس کے بعد جلسہ اختتام کو پہنچا۔ پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا سے متاثر ہو کرمرنے والوں کی تدفین میں رکاوٹ درست نہیں، لاک ڈاؤن ہو یا نہ ہو اپنے آپ احتیاط برت کر وائرس سے بچنے کی کوشش کریں: ضمیر احمد خان

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں جس طرح کا بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے اس مہلک وباء کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ اس وباء کا شکار ہو کر مرنے والے افراد کی تدفین اور دیگر آخری رسومات کے لئے عالمی صحت تنظیم کی طرف سے جو ...

کوروناکاقہر جاری،کرناٹک میں ایک ہی دن 21اموات، 24گھنٹوں کے دوران بنگلورومیں 994سمیت جملہ 1694کووڈکاشکار

ریاست میں آج ایک ہی دن کوروناوائرس کی زدمیں آکر21مریض ہلاک ہوگئے جبکہ 1694 کووڈمعاملات کا پتہ چلاہے۔ کرناٹک میں بھی کوروناوائر س کاخوفناک پھیلاؤ رکنے اورتھمنے کا نام نہیں لے رہاہے،ہرگزرتے لمحے اوردن کے ساتھ کوروناوائرس کے نئے معاملات میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے،