’ماہرین کی رائے کو نظر انداز کر کے صنعت کاروں کو بینک کھولنے کی اجازت دی گئی‘

Source: S.O. News Service | Published on 24th November 2020, 9:06 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھورام راجن اور سابق ڈپٹی گورنر ویرل آچاریہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک نے بڑے صنعت کاروں کو بینک کھولنے کا لائسنس دیتے وقت ماہرین کی صلاح کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی گروپوں کو بینکنگ شعبہ میں لانے کے لئے آر بی آئی نے جس انٹرنل ورکنگ گروپ کی تجویز کو منظوری دی ہے، اس میں کئی اقتصادیات کے ماہرین کی رائے اس کے بر خلاف تھی۔

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق رگھو رام راجن نے آر بی آئی کے اس قدم پر کہا ہے کہ وہ تمام ماہرین جو انٹرنل ورکنگ گروپ سے وابستہ تھے، ان میں سے ایک کو چھوڑ کر تمام کی رائے یہی تھی کہ بڑے صنعت کاروں کو بینک کھولنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ صنعت کاروں کے بینکنگ کے شعبہ میں آنے کے بعد قرض بڑھیں گے اور یہ کافی خطرناک ثابت ہوگا۔ راجن کے مطابق اس سے معاشی اور سیاسی قوتوں کا صنعتی گھرانوں کے مابین توازن گڑبڑا جائے گا۔

خیال رہے کہ ورکنگ گروپ نے گزشتہ ہفتہ اپنی رپورٹ جاری کی تھی، جس میں صرف ایک کو چھوڑ کر تمام ماہرین کی رائے تھی کہ کارپوریٹ ہاؤسز کو بینکنگ شعبہ میں آنے کی جازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اس گروپ کی قیادت کرنے والے پی کے موہنتی نے ماہرین کی طرف سے درج کرائے گئے اعتراضات کا ذکر تجویز میں کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صنعتی گھرانے اپنے کاروبار کو غیر ضروری قرض دے سکتے ہیں یا پھر قرض دینے کے معاملوں میں اپنے نزدیکی کاروباری ساتھیوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔

تجویز پر ماہرین نے کہا تھا کہ یہ صنعتی گھرانے تیزی سے اپنا کاروبار بڑھا رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ قرض لے کر املاک خرید سکتے ہیں۔ ایسا ہونے پر بینکنگ نظام کو خطر لاحق ہو سکتا ہے۔ رگھورام راجن اور ویرل آچاریہ نے مشترکہ بیان جاری کر کے کہا ہے کہ ’‘جب صنعتی گھرانوں کو قرض درکار ہوگا تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے قائم کیے گئے بینک سے قرض لے لیں گے۔ ماضی میں ایسے قرض کے تجربات بہتر نہیں ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کوئی بینک ایسے حالات میں معیاری قرض کس طرح فراہم کر سکتا ہے جبکہ اس کا کنٹرول قرض لینے والے کے ہاتھ میں ہے!’‘

اس معاملہ پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’کرونولوجی سمجھیے، پہلے بڑی کمپنیوں کے لئے قرض معافی کی گئی۔ پھر ان کمپنیوں کے لئے ٹیکس میں راحت دی گئی۔ اب لوگوں کی بچت انہی کمپنیوں کی طرف سے قائم کیے گئے بینکوں میں سیدھے بھیجی جائے گی۔‘‘ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کے ساتھ ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ ہیش ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔

بشکریہ: قومی آواز

ایک نظر اس پر بھی

ٹیکہ لگوانا ذاتی فیصلہ، لوگوں کا بھروسہ دھیرے دھیرے بڑھے گا: وزیر صحت ستیندر جین

کووڈ 19 کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے دو دن میں صحت سے متعلق کارکنوں کی ویکسینیشن کی رفتار میں کمی کے درمیان دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے منگل کے روز کہا کہ یہ ٹیکہ لگوانا رضاکارانہ اور ذاتی فیصلے سے منسلک ہے جی ہاں یا نہیں؟ تاہم عوام کا اعتماد بڑھانے کے لئے تمام تر کوششیں کی جارہی ...

زراعت کے مالک بن جائیں گے 3-4 سرمایہ دار ، قوانین کو واپس لینا واحد حل : راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کے روز تین مرکزی زرعی قوانین پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعوی کیا کہ ان قوانین کا مقصد زرعی شعبے پر تین چار سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم کرنا ہے جو ملک کے متوسط طبقے کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

ستیا پور لوجہادمعاملہ:ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ ختم کرنے والی عرضداشت پر الہ آبا د ہائی کورٹ میں کل سماعت ہوگی: گلزار اعظمی

یوپی کے سیتا پور شہر سے لوجہادکے نام پر گرفتار دس ملزمین جس میں دو خاتون بھی شامل ہیں کومقدمہ سے ڈسچارج یعنی کہ ان کے خلاف قائم مقدمہ ختم کرکے انہیں جیل سے فوراً رہا کئے جانے کی عرضداشت پر الہ آبادہائیکورٹ کی لکھنؤ بینچ کل یعنی کے 20 جنوری کو سماعت کریگی، جسٹس راجیو سنہا اور ...

گجرات میں سڑک کنارے سونے والے مزدوروں پر ڈمپر لاری چڑھ گئی، 15 ہلاک

گجرات کے ضلع سورت میں گذشتہ دیر رات ایک بے قابو گاڑی  سڑک کنارے سونے والے 20 افراد پر چڑھ گئی   جس کے نتیجے  میں 15 کی  موت  واقع ہو گئی۔ حادثہ سورت سے تقریباً 50 کلومیٹر دور کِم-مانڈوی روڈ پر کوسنبا کے پلوڈگام کے نزدیک  پیش آیا۔