کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد پرینکا چترویدی شیو سینا میں شامل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th April 2019, 9:09 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،19؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) متھرا میں اپنے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی کرنے والے کانگریسی کارکنوں  کے خلاف ہوئی انضباطی کارروائی کو رد کئے جانے سے ناراض چل رہی کانگریس کی قومی ترجمان اور پارٹی کے میڈیا سیل کی کنوینر پرینکا چترویدی نے جمعہ کو پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے پارٹی کے ترجمان ہونے کا ذکر ہٹا دیا ہے۔ کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ شیوسینا میں شامل ہو گئیں۔ شیوسینا چیف  ادھو ٹھاکرے کے گھر ماتوشری میں جمعہ کو پرینکا چترویدی نے پارٹی کی رکنیت لی۔

متھرا معاملے کو لےکر گزشتہ  17 اپریل کو کھل‌کر ناراضگی کا اظہار کرنے  والی پرینکا نے جمعرات کو کانگریس صدر راہل گاندھی کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔

رینکا نے استعفیٰ کے بعد ٹوئٹ کر کےکہا، ‘ پچھلے تین دنوں سے مجھے ملک بھر سے جو حمایت ملی ہے، اس کے لیے میں ممنون  ہوں۔ اس سفر کا حصہ رہے تمام لوگوں کا شکریہ۔ ‘

پرینکا نے اپنے استعفیٰ میں کہا، ‘ میں دس سال پہلے یوا کانگریس کے ممبر کے طور پر کانگریس میں شامل ہوئی تھی، کیونکہ مجھے پارٹی کا نظریہ اور آپ کی (راہل گاندھی کی)  اعتدال پسندی اور ترقی پذیر سیاست میں یقین تھا۔ ان دس سالوں میں مجھے جو بھی ذمہ داری سونپی گئی، اس کو میں نے پوری ذمہ داری اور وابستگی سے نبھایا۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘ میں نے پارٹی سے کچھ انعام یا رٹرن نہیں مانگا کیونکہ مجھے امید تھی کہ پارٹی کی  قیادت میری توقعات کا خیال رکھے‌گی۔ پچھلے کچھ ہفتے میں ایسی چیزیں ہوئیں جن سے مجھے اس کا احساس ہو گیا کہ پارٹی   کو میری خدمت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ مجھے یہ بھی لگا کہ میں جتنا وقت اس پارٹی  میں رہوں‌گی، مجھے اتنی ہی  اپنی  خود اعتمادی اور خودداری کی قیمت چکانی پڑے‌گی۔ ‘

انہوں نے متھرا کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے چیزوں کو جس طرح سے نظرانداز کیا اس سے واضح ہو گیا ہے کہ اب مجھے کانگریس کے باہر جانا ہوگا۔پرینکا نے یہ بھی کہا کہ وہ راہل گاندھی، ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں  کا احترام  کرتی ہیں۔ اس سے پہلے متھرا میں مبینہ طور پر بد سلوکی کرنے والے کارکنوں  کو پھر سے پارٹی میں واپس لئے جانے پر پرینکا نے کھل کر احتجاج  کیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ  17 اپریل کو ٹوئٹ کر کےکہا تھا، ‘ بڑے دکھ کی بات ہے کہ پارٹی خون-پسینہ دےکر کام کرنے والوں کے بجائے مارپیٹ کرنے والے غنڈوں کو زیادہ برتری دیتی ہے۔ پارٹی کے لئے میں نے ناشائستہ زبان سے لےکر ہاتھا پائی تک جھیلی، لیکن پھر بھی جن لوگوں نے مجھے پارٹی کے اندر دھمکی دی، ان کے خلاف بدقسمتی سے کوئی بھی پختہ کارروائی نہیں ہوئی۔ ‘

دراصل، گزشتہ دنوں پرینکا رافیل معاملے پر پریس کانفرنس کرنے کے لئے متھرا میں تھیں، جہاں پارٹی کے کچھ کارکنوں  نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی کی تھی۔ ان کی شکایت پر ان کارکنوں  کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا تھا۔

بعد میں اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارکنوں  کے ذریعے افسوس ظاہر کرنے کے بعد ان کے خلاف انضباطی کارروائی کو رد کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پرینکا ممبئی سے لوک سبھا انتخاب لڑنا چاہ رہی تھیں، لیکن ٹکٹ نہیں ملنے سے بھی ناراض تھیں۔

ایک نظر اس پر بھی

 جے ڈی یو کے اجلاس میں جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کو لے کر بنی حکمت عملی

دہلی میں واقع وزیر اعلی نتیش کمار کے گھر اتوار کو جے ڈی یو کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں آنے والے دنوں میں ہونے والے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کو لے کر حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ جھارکھنڈ میں جے ڈی یو نے اکیلے چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر نتیش کمار، نائب صدر ...

بہار میں شدید گرمی سے 24 گھنٹے میں 66 ہلاک، اورنگ آبادمیں 30 جانیں گئیں 

بہار میں شدید گرمی اور لو کی وجہ سے ہفتہ کو 66 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اورنگ آباد میں سب سے زیادہ 30، گیا میں 25 اور دارالحکومت پٹنہ میں تین لوگوں کی جان گئی۔ لو کے تھپیڑو ں سے بے حال مریض کے جسم میں جلن کی شکایت لے کر ہسپتال پہنچتے رہے ہیں۔

سوئس بینک اکاؤنٹ ہولڈروں پر شکنجہ کسا، کم از کم 50 ہندوستانیوں کو نوٹس

سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں غیر اعلانیہ اکاؤنٹ رکھنے والے ہندوستانیوں کے خلاف دونوں ممالک کی حکومتوں نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے افسر اس سلسلے میں کم از کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں سے متعلق اطلاعات ہندوستانی حکام کو سونپنے کے عمل میں لگے ہیں۔

پارلیمانی اجلاس کا آغاز تین طلاق بل منظورکرانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج

پارلیمنٹ کے پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں نئی حکومت کے سامنے جہاں تین طلاق بل سمیت دس اہم آرڈیننس کو منظور کرانے کا بڑا چیلنج ہوگا، وہیں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو کسانوں، بے روزگاری، سکیولرزم، الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسے بہت سے دیگر مسائل پر گھیرنے کی کوشش کریں گی-