پرائیویٹ اسپتال کووڈکی علامات نہ رکھنے والے مریضوں کوڈسچارج کریں:ریاستی وزیرآراشوک

Source: S.O. News Service | Published on 18th July 2020, 11:28 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،18؍جولائی(ایس او نیوز؍نیوز)بیماری کی علامات نہ رکھنے والے مریضوں کواب پرائیویٹ اسپتالوں میں اڈمٹ کرکے علاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فوری طورپر ایسے مریضوں کواسپتال سے ڈسچارج کرناہوگا۔اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کے چیف سکریٹری حکمنامہ جاری کرنے والے ہیں۔یہ اطلاع ریاستی وزیرمحصولات آراشوک نے دی۔ بنگلورکے نگران کاروں کے ساتھ وزیراعلیٰ کے رہائشی دفترکرشنامیں ہوئے اجلاس کے بعداخباری نمائندوں سے انہوں نے کہاکہ ایسی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ چندپرائیویٹ اسپتال کووڈکی علامات نہ رکھنے والے مریضوں کواپنے اسپتالوں میں اڈمٹ کرکے علاج کررہے ہیں۔پیکیج کی شکل میں علاج کئے جانے کی شکایت ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں سے حکومت نے 5000بیڈفراہم کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ لیکن مختلف بہانے بناکرپرائیویٹ اسپتال حکومت سے طلب کردہ بیڈفراہم کرنے میں آناکانی سے کام لے رہے ہیں۔اس سے قبل پرائیویٹ اسپتال انتظامیہ نے حکومت کوبیڈفراہم کرنے پرآمادگی ظاہرکی تھی۔لیکن اب تک بیڈفراہم نہیں کئے گئے۔اشوک نے مزیدکہا کہ جن علاقوں میں سیل ڈاؤن کیاجاناہے وہاں سیل ڈاؤن کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہرکے جن علاقوں میں کووڈمتاثرین کی تعدادمیں اضافہ ہواہے وہاں کووڈٹیسٹ میں اضافہ کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے اس اجلاس میں کووناٹیسٹنگ میں اضافہ سمیت بیڈس اوروینٹی لیٹرکی فراہمی پر بات چت ہوئی ہے۔ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے اشوک نے کہا کہ ایک ہفتہ کے لاک ڈاؤن کے بعداس میں مزیدتوسیع لانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،اس معاملہ میں وزیراعلیٰ نے ماہرین سے تجاویزحاصل کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن میں توسیع سے صرف اتناہوسکتاہے کہ وائرس چنددنوں کے لیے ٹل سکتاہے مگربالکل ختم نہیں ہوگا۔لاک ڈاؤ ن کوروناپرقابوپانے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ایک ہفتہ کے لاک ڈاؤن کے بعد حسب معمول سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی،احتیاطی اقدامات کے طورپر جوپابندیاعائدتھیں وہ برقراررہیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔