پرشانت بھوشن نے توہین عدالت معاملہ میں نظرثانی کی درخواست داخل کی

Source: S.O. News Service | Published on 15th September 2020, 12:42 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ کی توہین معاملہ میں اپنے خلاف لگائے گئے ایک روپیہ کے جرمانے سے متعلق فیصلہ پر نظرثانی کرنے کے لیے پیر کے روز عدالت عظمیٰ سےاستدعا کی۔

 بھوشن نے اپنی نظر ثانی درخواست میں سپریم کورٹ سے اس معاملہ میں فوری کھلی عدالت میں سماعت کیے جانے کی بھی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹس میں لیے گئے اس معاملے کی سماعت اس وقت کے جج ارون مشرا کو نہیں کرنی چاہیے تھی۔جج مشر اب ریٹائر ہوگئے ہیں۔

 بھوشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس کے تحت لیے گئے ایک توہین عدالت معاملہ میں اپنے خلاف لگایا گیا ایک روپیہ کا جرمانہ آج جمع کردیا۔انہوں نے واضح کیا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جرمانے کی ادائیگی کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ عدلیہ کے خلاف ان کے ٹویٹ کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے توہین عدالت معاملہ میں انہیں قصوروار قراردیتے ہوئے ان پر ایک روپیہ جرمانہ عائد کیا تھا۔

 بھوشن نے حالانکہ یہ کہا تھا کہ ان کا عدلیہ کی توہین کرنے کا ارادہ کبھی نہیں رہا۔وہ ہمیشہ عدلیہ کا احترام کرتے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چیزیں منظم طریقے سے چلتی رہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کورونا سے 95542 افراد ہلاک، متاثرین کی تعداد 60.74 لاکھ

 ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران متاثرہ افراد کے 82 ہزار سے زیادہ نئے معاملے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 60.74 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ کورونا کے انفیکشن سے 74 ہزار سے زائد افراد صحت مند ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں صحت مند افراد کی تعداد 50.16 لاکھ ہوگئی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ کے لئے بی جے پی کے دفتر میں ہنگامہ

بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد سے ٹکٹ کے دعویداروں کی سرگرمیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ان کے حامی کارکنان ہنگامہ آرائی اور ہاتھاپائی کرنے تک آمادہ ہیں اور کل ایسا ہی نظارہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی دفتر میں دیکھا گیا۔

بالاسبرامنیم اس ملک کے موسیقی اورلسانی ثقافت کی ایک عمدہ مثال تھے: سونیا گاندھی

کانگریس  کی  چیئرپرسن سونیا گاندھی نے موسیقی کی دنیا کی ایک عظیم ہستی بالاسبرامنیم کے انتقال پراپنے گہرے رنج  وغم  کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی  موسیقی اور لسانی  ثقافت کے عمدہ مثال تھے اور ان کے نہیں رہنے  سے آرٹ اور کلچرل کی دنیا پھیکی پڑگئی ہے۔