پرجول ریونّا نے دیوے گوڑا کے لئے ہاسن سیٹ خالی کرنے کا کیا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th May 2019, 3:53 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ہاسن، 24 مئی (یو این آئی/ایس او نیوز) کرناٹک کی ہاسن لوک سبھا سیٹ پر انتخابات جیتنے والے جنتادل (سیکولر) کے امیدوار پَروَجل ریونّا نے اپنے دادا اور پارٹی صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا کے حق میں اپنی سیٹ خالی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کرناٹک کی ٹمکور سیٹ لوک سبھا سیٹ سے انتخاب ہار گئے ہیں۔مسٹر ریونّا نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے اپنے دادا کے لئے لوک سبھا سیٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بار پہلی بار لوک سبھا انتخاب لڑا تھا اوردو لاکھ سے زائد ووٹوں سے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) امیدوار اے منجو کے خلاف بڑی جیت درج کی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا سیٹ چھوڑنے کا فیصلہ میرا ہے اور میں نے اس بارے میں اپنے کنبے کے کسی بھی فرد سے بات نہیں کی ہے۔مسٹر ریونّا اپنی جیت پر خوشی منانا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے دادا 12000 سے زائد ووٹوں کے معمولی فرق سے پانچ بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے بی جے پی امیدوار جی ایس بسوا راجو سے ہار گئے ہیں۔مسٹر دیو گوڑا اس سے پہلے ہاسن لوک سبھا سیٹ سے پانچ بار منتخب ہوچکے ہیں لیکن اس بار انہوں نے مسٹر ریونّا کے لئے یہ سیٹ چھوڑکرٹمکورو سیٹ سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔مسٹر ریونا کے چچا زاد بھائی اور وزیراعلی ایچ ڈی کمارسوامی کے بیٹے نکھل کمارا سوامی بھی منڈیا لوک سبھا سیٹ پر آزاد امیدوار سومالتا سے ایک لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔مسٹرپرجول ریونا تعمیرات عامہ کے وزیر ایچ ڈی ریونا کے بیٹے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔