کشمیر میں 71 دن بعد پوسٹ پیڈ موبائل فون خدمات بحال، انٹرنیٹ کی معطلی جاری

Source: S.O. News Service | Published on 14th October 2019, 7:23 PM | ملکی خبریں |

سری نگر،14؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) وادی کشمیر میں پیر کے روز لوگوں کو اس وقت بڑی راحت نصیب ہوئی جب 71 دنوں تک جاری رہنے والے طویل اور بدترین مواصلاتی بلیک آوٹ کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشنز کی کالنگ خدمات بحال کی گئیں۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات بشمول لیز لائن و براڈ بینڈ کی معطلی جاری ہے۔ تمام میڈیا و نجی دفاتر کے انٹرنیٹ کنکشنز بند رکھے گئے ہیں۔ بعض سرکاری دفاتر بشمول اسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا گیا ہے۔

جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے ہفتہ کے روز سری نگر کے سونہ وار علاقہ میں صحافیوں کے لئے قائم کردہ میڈیا سنٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تمام مواصلاتی کمپنیوں کی پوسٹ پیڈ موبائل فون خدمات کو 14 اکتوبر سے بحال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

بتادیں کہ 5 اگست جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کیے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، سے ایک روز قبل یعنی 4 اگست کو ریاست بھر میں موبائل فون و انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں۔ جہاں خطہ جموں میں اب تک صرف موبائل فون کنکشنز کی کالنگ خدمات وہیں لداخ میں دونوں کالنگ اور انٹرنیٹ خدمات بحال کی جاچکی ہیں۔ تاہم وادی میں موبائل فون و انٹرنیٹ کی معطلی برابر جاری ہے اور پیر کو دوپہر کے وقت صرف پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشنز کی کالنگ خدمات بحال کی گئیں۔

وادی بھر میں پانچ اگست کو لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جو حکومت کے مطابق 99 فیصد علاقوں سے ہٹائی جاچکی ہیں۔ تاہم وادی میں خصوصی پوزیشن کی منسوخی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کیے جانے کے بعد پیر کو مسلسل 71 ویں روز بھی ہڑتال جاری رہی۔

قابل ذکر ہے کہ قریب 80 لاکھ کی آبادی والے کشمیر میں موبائل فون صارفین کی تعداد 70 لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ پوسٹ پیڈ اور 30 لاکھ پری پیڈ کنکشن ہیں۔ حکومتی فیصلے کے مطابق وادی میں پیر کے روز 40 لاکھ پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشن کی کالنگ خدمات بحال ہوئیں۔

اگرچہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم پہلی بار موبائل فون خدمات کو مسلسل 71 دنوں تک معطل رکھا گیا۔ اس کے علاوہ پہلی مرتبہ انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کرکے لیز لائن اور براڈ بینڈ خدمات بھی معطل کی گئیں جن کی معطلی اب تک جاری رکھی جاچکی ہیں۔

پیر کو وادی میں مواصلاتی کمپنیوں کے دفاتر بالخصوص سری نگر کے ایکسچینج روڑ پر واقع بی ایس این ایل دفتر پر صارفین کا بھاری رش دیکھا گیا۔ بی ایس این ایل دفتر پر لوگوں کو اپنے پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشنز کی بل ادا کرنے کے لئے لمبی قطاروں میں انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اسی طرح صارفین کو نجی مواصلاتی کمپنیوں بشمول جیو اور ایئر ٹل کے دفاتر و کونٹروں پر بل کی ادائیگی میں مصروف دیکھا گیا۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے الزام لگایا ہے کہ مواصلاتی کمپنیاں ان سے معطلی کے ایام کے بل ادا کرنے کا بھی تقاضہ کر رہی ہیں جو نا قابل قبول ہے۔

آپ کو بتادیں کہ وادی کشمیر میں 71 دنوں تک جاری رہنے والی مواصلاتی پابندی کے دوران لوگوں کو جن متنوع مصائب و گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان مصائب ومشکلات سے نصف صدی قبل کے لوگ بھی دوچار نہیں تھے۔ مواصلاتی نظام پر پابندی کے ساتھ ہی اہلیان وادی کو نہ صرف بیرون ریاست وملک اپنے احباب و اقارب کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا تھا بلکہ وادی کے اندر بھی اپنے اقارب و دوستوں کے ساتھ تعلقات منقطع ہوگئے تھے یہاں تک کہ ایمرجنسی سروسرز جیسے اسپتالوں، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، پولس وغیرہ کے ساتھ بھی رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں بچا جس کے نتیجے میں لوگوں کو طرح طرح کے مسائل و مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

مواصلاتی نظام پر عائد پابندی، جس کو وادی میں اب تک کی بدترین مواصلاتی پابندی تصور کیا جاتا ہے، نے سری نگر میں رہائش پذیر لوگوں کا جینا دو بھر کردیا تھا، دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کی مشکلات اس سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ کیمونی کیشن معطل ہونے سے یہاں لوگوں کوملک کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم بچوں، تجارت یا کوئی دوسری نوکری کرنے والوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے سے سخت ترین پریشانیاں جھیلنی پڑیں، وادی کے اندر رہنے والے لوگ بھی پریشان اور باہر قیام پذیر لوگوں کا حال زیاد ہی خراب ہوا۔

5 اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی سے قبل اور بعد بھی سفر محمود پر روانہ ہوئے حاجی صاحبان اور ان کے اعزہ و اقارب کی پریشانیاں قلمبند کرنا بھی محال ہے۔ لوگ منجملہ بالخصوص طلبا اور بے روزگار ہوئے نوجوان ذہنی بیماریوں کے شکار ہوگئے اور یہاں جو ذہنی بیماریوں کا گراف پہلے ہی کافی بلند تھا، آسمان کو چھونے لگا۔

دریں اثنا وادی میں 4 اگست کی رات دیر گئے سے جاری انٹرنیٹ کی پابندی کی وجہ سے زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ عام لوگوں کو بالعموم جبکہ طلباء، کاروباری افراد اور صحافیوں کو بالخصوص شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بابری مسجد معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ناخوش پاپولر فرنٹ کی طرف سے بھی نظر ثانی کی عرضی داخل

بابری مسجد حق ملکیت معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے، پاپولر فرنٹ آف انڈیا نارتھ زون کے سکریٹری انیس انصاری نے بھی 9/ڈسمبر بروز پیر کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی داخل کی ہے۔ پی ایف آئی کی جانب سے جاری کردی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ رویو ...