کرناٹکا ہائی کورٹ میں جسٹس کےعہدے کے لئے بھٹکل کے ایڈوکیٹ ناگیندر نائک کی سفارش؛ انجمن سے فارغ ہیں ناگیندر نائک

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 5th October 2019, 1:51 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 4/اکتوبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کی کالجیم کمیٹی نے مرکزی حکومت کو کرناٹکا ہائی کورٹ میں ججس کی تقرری کے لئے جن نو وُکلاء کے ناموں کی سفارش کی ہے، اُن میں  بھٹکل سے تعلق رکھنے والے   ایڈوکیٹ ناگیندر نائک کا نام بھی شامل ہے۔

بنگلور ہائی کورٹ میں گذشتہ 26 سالوں سے  پریکٹس کرنے والے معروف وکیل   ناگیندر نائک  اگر ہائی کورٹ کے جج کے عہدہ پر فائز ہوتے ہیں، جس کا کہ پورا امکان ہے،  تو وہ ہائی کورٹ میں  جسٹس کے معزز اور اعلیٰ عہدہ پر فائز   ہونے  والے بھٹکل کے پہلے شخص ہوں گے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  سپریم کورٹ کی کالجیم کمیٹی نے جملہ 9 لوگوں کے ناموں  کی فہرست مرکزی حکومت کو روانہ کی ہے اور انہیں کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس کے عہدے پر فائز کرنے کی سفارش کی ہے جس میں  ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا نام بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ  سپریم کورٹ کی کالجیم کمیٹی کی جانب سے سفارش کرنے کے بعد مرکزی حکومت زیادہ تر اُن کی سفارشات کو قبول کرتی ہے، اس بناء پر ان کا جج بننا تقریبا طئے مانا جارہاہے۔

خیال رہے کہ بھٹکل انجمن آرٹس سائنس اینڈکامرس کالج سے گریجویشن مکمل کرنے والےبھٹکل تعلقہ کے   سرپن کٹہ کے رہنے والے ناگیندر رام چندرا نائک نے بنگلور کالج سے  ایل ایل بی کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی کالجیم کمیٹی کی جانب سے سیکولر ذہن رکھنے والے ایڈوکیٹ ناگیندر نائک کے نام کی  سفارش کئے جانے پر  نہ صرف بھٹکل بلکہ ضلع اُتر کنڑا کے عوام میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل تعلقہ کی شرولی ہائی اسکول کے طلبا کاثقافتی و کھیل مقابلوں میں بہترین مظاہرہ

انکولہ تعلقہ شٹگری میں منعقدہ ضلع لیول کھیل مقابلوں میں شرولی ہائی اسکول کی طالبہ لتا پانڈورنگا نائک نے100میٹر کی ہرڈلس  دوڑ میں  دوم مقام حاصل کرتے ہوئے منڈیا ضلع کے ناگ منگلا میں منعقدہ ریاستی سطح کے کھیل مقابلوں میں لگاتار تیسری مرتبہ شرکت کرتےہوئے ریکارڈ قائم کیاہے۔

بھٹکل میں قومی شاہراہ فورلین کی تعمیرسے پیدا ہوئے مسائل کے حل کے لئے عوامی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ

تعلقہ میں جاری قومی شاہراہ فورلین کے تعمیراتی کاموں سے تعلقہ کے منکولی، ماروتی نگر، مٹھلی ، موڈبھٹکل کے علاقوں کے  عوام بارش کے موسم میں کافی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں، مسائل کے حل پر دوبارہ غوروفکرکرنے کے لئے عوامی میٹنگ کا مطالبہ لےکر بھٹکل منکولی اور ماروتی نگر ترقی کمیٹی ...

بھٹکل اسلامیہ اینگلو ہائی اسکول میں سالانہ ادبی و ثقافتی مقابلوں کا انعقاد : انجمن قابلِ فخر تعلیمی ادارہ ہے : مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی

انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول بھٹکل میں 10دسمبر 2019بروز پیر کو ہائی اسکول کے عثمان حسن ہال میں طلبا کے درمیان سالانہ ثقافتی مقابلوں کا انعقاد ہوا۔

بھٹکل کے عبدالباقی صدیقہ کرناٹکا لاء یونیورسٹی بنگلورو کبڈی ٹیم کے لئے منتخب : یونیورسٹی بلیو کا خطاب

بنگلورو کی شیشا دری پورم لاء کالج میں ایل ایل بی کے  تیسرے سال میں  زیر تعلیم  بھٹکل کے عبدالباقی ابن عبدالقادر جیلانی  نے کبڈی میں بہترین کھیل کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے صدیقہ کرناٹکا اسٹیٹ لاء یونیورسٹی(کے ایس ایل یو)  کی کبڈی ٹیم(مین) کے لئے منتخب  ہوتے ہوئے یونیورسٹی بلیو کا ...

  مسلم متحدہ محاذ، جماعت اسلامی ہند اور کئی تنظیموں کے ایک نمائندہ وفدکا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات اور شہریت ترمیمی بل   کی مخالفت اور دستور کے تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل

مسلم متحدہ محاذ، جما عت اسلامی ہند، سدبھاؤ نا منچ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک، ایف ڈی سی اے، ایس آئی او، اے پی سی آر  اور مومنٹ فار جسٹس جیسے ہم خیال تنظیموں کی قیادت میں مسلم نمائندوں کا ایک وفد 7 / دسمبر 2019  ء  بروز سنیچر، سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

کاروار:ہائی وے توسیع کے لئے سرکاری زمین تحویل میں لینے پرمعاوضہ کی ادا ئیگی۔ ملک میں قانون وضع کرنے کے لئے ضلع شمالی کینرا بنا ماڈل

نیشنل ہائی وے66 توسیعی منصوبے کے لئے سرکاری زمینات کو تحویل میں لینے کے بعد خیر سگالی کے طورمعاوضہ ادا کرنے کی پہل ضلع شمالی کینرا میں ہوئی جس کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے ایکٹ 1956میں ترمیم کرتے ہوئے ملک بھر میں تحویل اراضی پرمعاوضہ ادائیگی کا نیا قانون2017میں وضع کیا گیا ہے۔