کرناٹک میں سیاسی بحران جاری، مظاہرہ کے دوران غلام نبی آزاد سمیت کئی کانگریسی رہنما حراست میں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th July 2019, 11:27 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،10؍جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) کرناٹک میں بحران کے لئے برسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان جاری اٹھا پٹک کے درمیان برسراقتدار کانگریس اور جنتا دل (ایس) نے گورنر وجوبھائی والا کے مبینہ ’تفرقہ پیدا کرنے والے رویہ‘ کی مخالفت میں بدھ کو مظاہرہ کر کے ان کے تئیں اپنے غصہ کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ دونوں پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کے استعفی کی وجہ سے اتحادی حکومت پچھلے ایک ہفتے سے سنگین بحران سے دو چار ہے۔

برسراقتدار اتحاد کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کے دفتر کے غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور ریاستی بی جے پی کے صدر بی ایس یدی یورپا کی قیادت میں پارٹی کے رکن اسمبلی نے دھرنا دیا۔ ایک سو سے زیادہ ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسلر کے اس دھرنے میں سابق نائب وزیراعلی آر اشوک اور کے ایشوپپا بھی شامل تھے۔ دھرنے پر بیٹھے رکن اسمبلی وزیراعلی ایچ ڈی کماراسوامی اور کانگریس کے ان لیڈروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے جو باغی رکن اسمبلی کو منانے اور انہیں اپنے فیصلے پر پھر سے غور کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

مظاہرہ کے دوران گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرہ کر رہے غلام نبی آزاد سمیت کانگریس کے کئی لیڈران کو حراست میں لئے جانے کی اطلاع ہے۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت پر اسمبلی اسپیکر کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں واقع مہتاما گاندھی کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیا۔

قبل ازیں یدی یورپا نے کہا کہ پارٹی کا ایک وفد گورنر سے ملاقات کرکے انہیں ایک میمورنڈم سونپے گا اور باغی ارکان اسمبلی کے تئیں کانگریس لیڈر کو سخت رخ اختیار کرنے کی شکایت کرے گا۔ کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں کو استعفی دے کر انہیں باغی بنانے میں بی جے پی کا کسی قسم کا ہاتھ ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے یدی یورپا نے کہا، ’’اگرایسی صورت حال پیدا ہوگی تو وہ حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔‘‘

اس دوران ریاستی کانگریس کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے الزام لگایا کہ بی جےپی لیڈردونوں برسراقتدار پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کو بھگانے اور انہیں ہوٹل میں قید کرنے میں شامل ہیں۔ راؤ نے دعوی کیا کہ برسر اقتدار جے ڈی ایس-کانگریس حکومت کے پاس مکمل اکثریت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جمعہ کو اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے اور اگر اس میں بی جے پی تحریک عدم اعتماد لانے میں ناکام رہتی ہے تو ہم اعتماد تحریک پیش کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بی جے پی پورے ملک میں ایک پارٹی کی حکومت چلانا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی کا ’تاناشاہی‘ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور پورے ملک پر صرف اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بھگوا پارٹی کرناٹک میں برسراقتدار اتحاد سمیت ملک میں سبھی غیر بی جے پی حکومتوں کو گرانے کی کوشش میں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل شرالی کی دختر انجمن ڈاکٹر انیسہ شیخ کو ملی ڈینٹل شعبہ میں اعلیٰ ترین کامیابی : جملہ مضامین کے علاوہ مینگلور کالج کی بہترین طالبہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

دختر ِ انجمن  کاگولڈ میڈل اور رابطہ گولڈ میڈل ایوارڈ سے سرفراز  بھٹکل  کی  ڈاکٹر انیسہ شیخ طبی میدان میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے اے جے اسپتال مینگلورو میں بھی  امتیازی نمبرات سے کامیاب  ہونے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کالج کی بہترین طالبہ کا ایوارڈ حاصل ...

آئی ایم اے کے اثاثوں کو نیلام کرنے حکومت کا فیصلہ، کامپٹنٹ اتھارٹی کے ذریعہ سرمایہ کاروں کو رقم لوٹانے کی طرف پہلا قدم

کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ کے مرحلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے آئی ایم اے کے سربراہ منصور خان کے جن اثاثوں کو ضبط کیا گیا ان کوریاستی حکومت نے نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دیوے گوڈا نے بی جے پی کی حمایت کا واضح اشارہ دیا ضمنی انتخاب بی جے پی ہار بھی گئی تو حکومت کو خطرہ نہیں

ریاست میں ایک او ر بار بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان مفاہمت کے واضح اشارے دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابا ت کا نتیجہ جو بھی ہو لیکن ریاست میں بی جے پی حکومت کے استحکام کو متاثرہونے نہیں دیا جائے گا۔

مہاراشٹر سیاسی گہما گہمی پر دیوے گوڑا کا بڑا بیان ’’سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں‘‘

سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا نے مہاراشٹر میں بدلتے ہوئے سیاسی واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور وقت کے مطابق حالات بدلتے رہتے ہیں۔

سرمائی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے وینکیا نائیڈو نے 17 نومبر کو کل جماعتی میٹنگ بلائی

راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے 18 نومبر سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو کامیاب بنانے سمیت دیگر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایوان بالا میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی 17 نومبر کو میٹنگ بلائی ہے۔