کمار سوامی کی طرف سے کھرگے کی ہمدردی کو سیاسی رنگ ؛ سدرامیا نے ریونا کو بھی عہدہ وزیراعلیٰ کے لئے موزو ں قرار دیا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th May 2019, 8:16 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو۔16/مئی(ایس او  نیوز) وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی طرف سے عہدہ  وزیراعلیٰ کے معاملے میں سینئر کانگریس رہنما ملیکارجن کھرگے سے ناانصافی کے متعلق بیان کمار سوامی اور سدرامیا کے درمیان نوک جھونک کا سبب بنا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ کمار سوامی نے حالانکہ واضح کردیا ہے کہ ملیکارجن کھرگے کی صلاحیتوں کے اعتراف اور انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے متعلق ان کا بیان سیاسی بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ اسی لئے وہ نہیں چاہتے کہ اس بیان کو طول دیا جائے، لیکن اس بیان کے جواب میں آج سابق وزیراعلیٰ سدرامیا نے عہدہئ وزیراعلیٰ کے لئے ایچ ڈی ریونا کا نام اچھال کر سیاسی حلقوں میں بحث کا راستہ ہموار کردیا ہے۔

ایسا لگ رہاتھاکہ مخلوط حکومت میں حالات سدھرگئے ہیں، عہدہئ وزیر اعلیٰ پر سدرامیا کو دوبارہ لانے کے لئے بعض اراکین اسمبلی کے مطالبے کے بعد سدرامیا کی طرف سے ہی وضاحت کی گئی کہ کمار سوامی پانچ سال وزیراعلیٰ رہیں گے۔اس کے بعد اس موضوع پر بحث کچھ دیرکے لئے رکی تھی کہ اچانک وزیراعلیٰ کمار سوامی نے خود عہدہئ وزیر اعلیٰ کے لئے ملیکارجن کھرگے کے نام کی تجویز پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملیکارجن کھرگے کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ بہت پہلے ہی انہیں وزیر اعلیٰ بنادیا جاناچاہئے تھا۔اس کے جواب میں بہت سارے کانگریس لیڈروں نے کہا تھاکہ ملیکارجن کھرگے بلاشبہ عہدہئ وزیر اعلیٰ کے لئے موزوں امیدواروں میں تھے، لیکن کانگریس نے انہیں اور بھی بلند عہدوں پر فائز کردیا اسی لئے ان کے ساتھ ناانصافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا نے بھی آج کہاکہ جس طرح کانگریس میں ملیکارجن کھرگے عہدہئ وزیراعلیٰ کے لئے کافی عرصہ قبل ہی موزوں امیدوار تھے اسی طرح کانگریس میں اور بہت سارے قائدین ہیں جو عہدہئ وزیراعلیٰ کے لئے تمام صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ بلکہ جے ڈی ایس میں بھی کمار سوامی کے علاوہ ایچ ڈی ریونا میں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن ابھی ان کے وزیراعلیٰ بننے کا وقت نہیں آیاہے۔ وزیر کمار سوامی نے سدرامیا کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کھرگے کے متعلق ان کے بیان کا غلط مطلب نہ نکالا جائے ان کا یہ بیان قطعاً سیاسی بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ اسی لئے اسے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنایا جائے۔ ملیکارجن کھرگے ریاست کے ایک سینئر رہنما ہیں کئی دہائیوں سے انہوں نے ریاست میں کانگریس کو منظم کرنے کے لئے جدوجہد کی ہے، ان کے بارے میں جو تبصرہ کیا گیا ہے وہ انفرادی خیالات ہیں۔ ان کے ان خیالات سے اگر کسی نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو یہ درست نہیں ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں موسلادھار بارش سے ٹرافک جام موٹر گاڑیوں پر 25سے زائد درخت گرنے سے شدید نقصان

ہفتہ کی رات تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش سے 25سے زائد درخت کئی گاڑیوں پر گرنے سے کافی نقصان پہنچاہے- ہفتہ کی شام 5بجے شروع ہوئی بارش 6:30بجے شہر کے اہم علاقوں میں کافی تیز ہواؤں کے ساتھ جاری رہی-

بنگلورو سنٹرل حلقہ: بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو گاندھی نگر میں اکثریت

کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ کے اپنے حلقہ گاندھی نگر میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہونے کی بجائے یہاں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے- اس حلقہ میں بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو 24,723 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ہے-

خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں اتنے مایوس کن ہوں گے:دنیش گنڈو راؤ

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ہم ریاست میں صرف ایک سیٹ پرکامیابی حاصل کریں گے۔