آسام میں بے گھروں پر پولیس فائرنگ غیر آئینی و غیر انسانی : جماعت اسلامی ہند

Source: S.O. News Service | Published on 26th September 2021, 12:05 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،26؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) سپہا جھار ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھول پور میں عوام پر پولیس فائرنگ اور انہیں بے گھر کیا جانا نہایت ہی افسوسناک عمل ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ان بے گھروں کو فوری طور پربحال کیا جائے“۔یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ” اس جگہ پر 900 سے زیاد ہ بسنے والے خاندانوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ تمام قانونی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی ذمہ داریوں کو نظر کرتے ہوئے بے دخل کئے جانے کا عمل انجام دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ انتہائی کسمپرسی میں ہیں۔ انہیں فوری طور پر خوراک، پناہ گاہ اور قانونی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بے گھر لوگ جمہوری طریقے پر مظاہرہ کررہے تھے جن پر پولیس نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کئی شدید زخمی ہوگئے۔اس واقعے کی مکمل ذمہ داری آسام کی ریاستی حکومت کو لینی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ اس طرح کے ظالمانہ حملے کے متعلقہ عہدیداروں اور پولیس افسروں کو سزا ملے۔نیز ان تمام معاملات کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ جلد سے جلد منظر عام پر لائی جائے۔

جن دو افراد کی پرلیس فائرنگ میں موت ہوئی ہے،ان کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے اور شدید زخمی ہونے والوں کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے طور پر دیا جائے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ”جب سے آسام میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے،مسلم اکثریتی آبادی والے رہائشی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کو بے دخل کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔اب سے تقریبا تین ماہ قبل دھوبوری ضلع میں تین سو خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔دو سال پہلے بسواناتھ ضلع کے چوٹیا علاقے سے 445 خاندانوں کو بے گھر کیا گیا تھا۔اس موقع پر جماعت اسلامی ہند حقوق انسانی کی’یو این ہیبی ٹیٹ‘ کی جانب سے جاری کردہ ’فیکٹ شیٹ 21 ڈوکومنٹ‘ کے بارے میں بتانا چاہتی ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے تسلیم کیا ہے کہ ہر شہری کو حقِ آزادی کے ساتھ مناسب رہائش کا بھی حق حاصل ہے۔شہریوں کو جو حقوق حاصل ہیں ان میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہیں:جبری بے دخلی اور کسی کے گھر کو من مانے ڈھنگ سے مسمار اور تباہ کرنے کے خلاف تحفظ۔

کسی کے گھر، رازداری اور خاندان کے ساتھ من مانی مداخلت سے آزاد ہونے کا حق۔ کسی کواپنی رہائش کا انتخاب کرنے کا حق اور یہ طے کرنا کہ اسے کہاں رہنا ہے اور نقل و حرکت کی آزادی کا حق۔ ہندوستان نے اس بین الاقوامی قانون کی توثیق کی ہے جس میں رہائش کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی اپنے کئی فیصلوں میں مانا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 21 جس میں ہر شہری کو محفوظ زندگی کا حق دیا گیا ہے، اس سے بھی ہر ایک کو مناسب رہائش کا انسانی حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم آسام میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں کی بی جے پی حکومت اس قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کی پرواہ نہیں کررہی ہے۔ یہ غریبوں اور بے گھروں پر ’تجاوزات‘ اور غیر قانونی باشندوں‘ کے طور پر الزام لگا کر ترقی کا دکھاوا کرنے کے لئے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کررہی ہے۔ بے دخل کئے جانے کا یہ رویہ ہمارے آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔لہٰذا اسے ترک کرکے جلد از جلدان بے گھروں کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس نے پیگاسس کیس پرعدالت کے فیصلے کاخیرمقدم کیا

کانگریس نے بدھ کو سپریم کورٹ کے مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ’ستیہ میو جیتے۔‘‘پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹویٹ کیاہے کہ بزدل فاشسٹوں کی آخری پناہ گاہ مبینہ قوم پرستی ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی کرشنا کلیانی بھی ترنمول کانگریس میں شامل

 بنگال بی جے پی کو دھکچے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب رائے گنج سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی کرشنا کلیانی جنہوں نے یکم اکتوبر کو بی جے پی چھوڑ دی تھی نے قیاس آرائیوں کے مطابق آج پارٹی کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔

ہندوتوا وادی مظاہرین کے ہاتھوں تریپورہ کی 16 مساجد میں توڑ پھوڑ، 3 مساجد نذر آتش

شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں حالات دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی مذمت میں کئی دنوں سے ریاست بھر میں مظاہرے اور ریلیاں جاری تھیں، لیکن یہ ریلیاں شدت اختیار کر گئیں اور ریاست کے مسلمانوں کے خلاف متشدد ہوگئیں۔

وزیراعلی ملازمتیں فراہم کریں یا مستعفی ہوجائیں: وائی ایس شرمیلا

 وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے کہا ہے کہ ہر گھر کو ایک ملازمت یا نہیں تو بے روزگاری کا الاونس فراہم کرنے ولے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے عوام نے ان کو اقتدار حوالے کیا، تاہم موجودہ صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ریاست میں بے روزگاری میں ...

پیگاسس معاملہ پر مرکز کو سپریم کورٹ سے جھٹکا! تفتیشی کمیٹی کا قیام

پیگاسس معاملہ میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ پیگاسس معاملہ کی جانچ ہوگی، عدالت نے جانچ کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکز کا رخ واضح نہیں اور رازداری کی خلاف ورزی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

کانگریس نے پیگاسس کیس پرعدالت کے فیصلے کاخیرمقدم کیا

کانگریس نے بدھ کو سپریم کورٹ کے مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ’ستیہ میو جیتے۔‘‘پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹویٹ کیاہے کہ بزدل فاشسٹوں کی آخری پناہ گاہ مبینہ قوم پرستی ہے۔

بھٹکل کے اعلیٰ افسران کے خلاف ہتک ذات مقدمہ درج ہونے کا معاملہ : سرکاری ملازمین سنگھا کی کڑی مذمت

18اکتوبر کو بھٹکل میونسپالٹی کے دکانوں کی نیلامی میں شریک ہوئے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور چیف آفیسر کے خلاف بغیر کسی وجہ کے ، غیرقانونی طورپر ہتک ذات کا معاملہ درج کئےجانے کی کرناٹکا ملازمین سنگھ بھٹکل شاخ نے مذمت کی ہے۔

بھٹکل ہیبلے گرام پنچایت انتظامیہ پر رشوت خوری کا الزام : خصوصی میٹنگ میں الزام ثابت کرنے کا مطالبہ

تعلقہ کے ہیبلے گرام پنچایت کے چند ممبران نے گرام پنچایت انتظامیہ  پر رشوت خوری کا الزام عائد کئےجانےکو لےکر ہیبلے پنچایت ہال میں پنچایت ممبران کی  خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی ۔

 پتور میں نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی ہراسانی کا معاملہ - پی ای ڈائریکٹر گرفتار ۔۔۔۔( مینگلور اور اطراف کی مختصر خبریں)

ایک پرائیویٹ کالج میں فزیکل ایجوکیشن (پی ای) ڈائرکٹر کی خدمات انجام دینے والے ایلیاز پنٹو کو نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی ہراسانی معاملہ میں 15 دن کے لئے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ۔