وزیر اعظم کی حفاظت میں کوتاہی: آزادانہ تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی کمیٹی تشکیل

Source: S.O. News Service | Published on 12th January 2022, 1:18 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12؍ جنوری (ایس  او نیوز؍ایجنسی)  سپریم کورٹ نے 5 جنوری کو دورہ پنجاب کے وقت وزیر اعظم نریندر مودی کی حفاظت میں کوتاہی کے معاملہ پر سپریم کورٹ کی ریٹائر جج جسٹس اندو ملہوترا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل این آئی اے، ڈی جی پی چنڈی گڑھ، آئی جی سلامتی (پنجاب) اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے جسٹس اندو ملہوترا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو سوال پیدا ہوئے ہیں انہیں کسی یکطرفہ جانچ پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس معاملہ میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اصولوں کی خلاف ورزی کی وجوہات معلوم کی جانی چاہیے۔ پتا چلنا چاہیے کہ اس سب کے لئے کون ذمہ دار ہے اور اس طرح کی کوتاہی آگے نہ ہو اس کے لئے ضروری اقدامات کیا ہونے چاہئیں یہ بھی بتایا جائے۔

سپریم کورٹ نے کمیٹی سے کہا ہے کہ رپورٹ جلد از جلد داخل کی جائے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل تمام محفوظ ریکارڈ کمیٹی کے چیئرمین کے سامنے پیش کریں گے۔ خیال رہے کہ پنجاب حکومت اور وزارت داخلہ دونوں نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اپنی اپنی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں لیکن دونوں نے کہا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی میں شامل ہونے والے اسیم ارون پر اکھلیش یادو کا حملہ ’کیسے کیسے لوگ وردی میں چھپے بیٹھے تھے‘

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سابق آئی پی ایس اسیم ارون کے بی جے پی کی رکنیت حاصل کرنے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افسران پانچ سال تک بی جے پی کے لئے کام کر رہے تھے آج انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ...

دارا سنگھ سماجوادی پارٹی میں شامل، یوگی کے تیسرے وزیر اکھلیش کی سائیکل پر سوار

 سوامی پرساد موریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو خیر آباد کہنے والے یوگی حکومت کے سابق وزیر دارا سنگھ چوہان نے اتوار کے روز سماج وادی پارٹی (ایس پی) کا دامن تھام لیا۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد رامپور پہنچے عبد اللہ اعظم ’ہم پر جتنا ہو سکتا تھا ظلم ہوا، میرے والد کی جان کو خطرہ‘

اتر پردیش میں انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو بڑی راحت ملی ہے۔ تقریباً 23 مہینے بعد جیل سے رہا ہونے کے بعد عبد اللہ اعظم نے حکومت اور انتظامیہ پر جم کر نشانہ لگایا۔