پی ایم مودی کی سیکورٹی معاملہ: سپریم کورٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کے نام پر فیصلہ

Source: S.O. News Service | Published on 12th January 2022, 1:23 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12؍ جنوری (ایس  او نیوز؍ایجنسی)  عدالت عظمیٰ بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں مبینہ کوتاہی کی تحقیقات کے لیے ایک سابق جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کا نام دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے 'لائرز وائس' نامی این جی اوکی عرضی پر فوری سماعت کرتے ہوئے پیر کو سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

بنچ نے یہ فیصلہ عرضی گزار مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کے دلائل سننے کے بعد لیا۔ عدالت آج کی سماعت کے دوران کمیٹی ممبران کے ناموں کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ درخواست میں مستقبل میں وزیر اعظم کی ’سیکورٹی لیپس‘ کی تکرار سے بچنے کے لئے پورے واقعہ کی ’موثر اور پیشہ ورانہ‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ بھٹنڈہ کے ضلع جج کو سیکورٹی کی خلاف ورزی سے متعلق تمام ریکارڈ اپنے قبضے میں لینے کی ہدایت کرے۔

وزیر اعظم کے 5 جنوری کے پروگرام کے دن مظاہرین کے دھرنا اور ناکہ بندی کے بعد ان کا قافلہ پنجاب میں ایک فلائی اوور پر پھنس گیا تھا۔ اس واقعے نے پی ایم مودی کو ریاست میں اپنی ریلی اور پہلے سے طے شدہ پروگرام منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ چیف جسٹس این وی رمن نے گزشتہ سماعت (10 جنوری) کے دوران کہا تھا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیتا ہوں۔ انہوں نے انکوائری کمیٹی میں ممبر کے طور پر ڈی جی پی چنڈی گڑھ، آئی جی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل اور اے ڈی جی پی (دفاع) کو کام کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

جسٹس رمن نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمیٹی کو کم سے کم وقت میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہیں گے۔ عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی تحقیقات خود نہ کریں۔ ریاستی حکومت نے بنچ کے سامنے اس معاملے میں 'آزادانہ انکوائری' قائم کرنے کی درخواست کی تھی۔ سماعت کے دوران بنچ نے مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں مبینہ کوتاہی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ’شوکاز' نوٹس جاری کرنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔

 

نوٹس بھیجے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس این وی رمن نے سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا ’’اگر آپ (مرکزی حکومت) ریاستی اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو اس عدالت کو ایسا کرنے کے لئے کیا باقی رہ گیا ؟" خیال رہے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے7 ​​جنوری کو سماعت کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ 10 جنوری کو ہونے والی اگلی سماعت تک اپنی طرف سے کوئی انکوائری نہ کریں۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست کے کئی متعلقہ اعلیٰ افسران کو مبینہ سیکورٹی لیپس پر شوکا نوٹس جاری کیے گئے۔

سپریم کورٹ نے 7 جنوری کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو وزیر اعظم کے ایک روزہ بھٹنڈہ دورے سے متعلق تمام تفصیلات کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی اور مرکزی حکومت کی متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا کہ وہ رجسٹرار جنرل سے شواہد اکٹھا کرنے میں مدد کریں۔ سپریم کورٹ کے سامنے گزشتہ سماعت کے دوران ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل ڈی ایس پٹوالیہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی افسران کے خلاف شو کاز نوٹس پر سخت اعتراض کیا تھا۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے بنچ کے سامنے عرض کیا تھا کہ وزیر اعظم کی سیکورٹی میں لاپرواہی پنجاب حکومت کی 'انٹیلی جنس مشینری' کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ درخواست گزار دہلی کی این جی او کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ منیندر سنگھ پیش ہوئے۔ انہوں نے بھٹنڈہ واقعہ کے تناظر میں 6 جنوری کو عدالت کے سامنے خصوصی ذکر کے تحت تیزی سے سماعت کی مانگ کی تھی۔

وزیر اعظم مودی کی سیکورٹی میں لاپرواہی سے متعلق معاملے کو ' انتہائی ضروری' قرار دیتے ہوئے انہوں نے فوری اور جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں بنچ نے 7 ​​جنوری کو معاملے کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھوپیش بگھیل کی کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل اور پرینکا سے ملاقات، انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بدھ کے روز دہلی میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ ساتھ ہی وہ پارٹی کی جنرل سکریٹری اور انچارج اتر پردیش پرینکا گاندھی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے لئے بھی پہنچے۔

اب یوپی میں ہوگی ورچوئل لڑائی، بی جے پی اور کانگریس کے پاس ہے ٹرینڈ ٹیم

سماجوادی پارٹی کے گوتم پلی واقع دفتر سے آج پہلی ورچوئل ریلی کا آغاز کیا گیا۔ اس ریلی کو خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے بڑے لیڈر امبیکا چودھری نے صوبے کی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت ملے گا انٹرنیٹ: پنارائی وجین

 کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے منگل کے روز کہا کہ اس سال مئی تک کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ پنارائی وجین نے کہا کہ کیرالہ فائبر آپٹک نیٹ ورک (کے ایف او این) کا مقصد تقریباً 20 لاکھ بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی ...

’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ نعرہ سے متاثر خاتون صحافی ندا احمد نے صحافت کو کیا الوداع، سیاست میں رکھا قدم

صحافت کو خیرباد کر کے سیاست میں قدم رکھنے والی ندا احمد کا کہنا ہے کہ سیاست میں جو لوگ بہت زیادہ وعدے کر تے ہیں، سمجھ لو کچھ نہیں کرتے۔ اس لئے میں وعدے نہیں کروں گی، بلکہ کچھ کر کے دکھانا ہے۔

پی ایم مودی کی میزبانی میں ہند-وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس 27 جنوری کو

ہندوستان 27 جنوری کو پہلے ہند وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس کا انعقاد کرے گا وزیر اعظم نریندر مودی کی میزبانی میں ورچول توسط سے ہونے والی اس چوٹی کانفرنس میں قزاقستان، جمہوریہ کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان شرکت کریں گے پہلے ان لیڈران کے یوم جمہوریہ کی ...