18 نہیں، 21 ہو لڑکیوں کی بھی شادی کی عمر، کورٹ میں عرضی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th August 2019, 10:52 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)لڑکیوں کی شادی کی عمر اب بڑھانے کا مطالبہ اٹھا ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے نے لڑکیوں کی شادی کے لئے کم از کم حد 21 سال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پٹیشن میں انہوں نے حکومت ہند کو بھی فریق بنایا ہے۔کہا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی کم عمرحدرکھنا آئین سے ملے مساوات، آزادی اور باوقار زندگی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اپادھیائے نے درخواست میں کہا ہے کہ ابھی لڑکوں کی شادی کے لئے کم از کم عمر 21 سال ہے،جبکہ لڑکیوں کے لئے 18 سال،آخر اس کی بنیاد کیا ہے،جس کی بنیاد، وہ پدرانہ سوچ ہے جو لڑکیوں کے خود کفیل بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اپادھیائے نے عرضی میں دلیل دی ہے کہ بغیر کسی سائنسی مطالعہ وغیرہ کے ہی لڑکیوں کی عمرحدکم طے کر دی گئی۔انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ہندوستان میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی کم عمر میں شادی کی طے کی گئی۔عامرحدعالمی رجحانات کے بھی خلاف ہے۔اتنا ہی نہیں، اس سے آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔خواتین کے لئے یہ مساوات اور وقار کے حق کے بھی خلاف ہے۔مختلف اصلاحات سے جڑیں 50 سے زائد عرضیاں داخل کرکے پی آئی ایل مین کہلانے والے اشننی اپادھیائے نے کہا ہے کہ دنیا کے 125 سے زائد ممالک میں خواتین اور مردوں کی شادی کے لئے ایک عمر ہے۔ہندوستان میں بھی اس کی مانگ اٹھتی رہی ہے۔نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن بھی گزشتہ سال 29-30 اگست کو نئی دہلی میں منعقد ایک سیمینار میں شادی کے لئے لڑکے اور لڑکی کی عمرحدمیں اسی طرح کی وکالت کر چکا ہے۔انہوں نے دلیل گناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا وقت ملے گا،لڑکیوں کو سماجی دباؤ کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا،نہیں تو قدامت سوچ والا گھر معاشرے شادی کے بعد سے ہی خواتین سے بچے کی چاہت کرنے لگتا ہے،کم عمر میں ہی لڑکیوں کے حاملہ ہونے سے ان کی تعلیم کے ساتھ کیریئر پر بھی اثر پڑتا ہے،جس سے لڑکیوں کے خود کفیل ہونے کی راہ میں حائل ہیں۔

اپادھیائے نے عرضی میں ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔جس کے مطابق جو خواتین 20 سال کی عمر سے پہلے حاملہ ہوتیں ہے،انہیں اور ان کے بچوں کو کم وزن سمیت تمام طرح کی جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ لڑکوں کو 21 سال کی عمر ملنے سے انہیں تعلیمی اور اقتصادی طور پر مضبوط ملنے کا موقع ملتا ہے، ایسے میں لڑکیوں کو ایسے مواقع کیوں نہیں ملنے چاہئے؟۔

ایک نظر اس پر بھی

عصمت دری کی راجدھانی بن گیا ہندوستان پھر بھی خاموش ہیں پی ایم مودی: راہل

 کانگریس کے سنیئر لیڈر راہل گاندھی نے اتر پردیش میں ایک لڑکی کے ساتھ ہوئی عصمت دری معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آج کہاکہ ہندوستان دنیا کی عصمت دری کی راجدھانی میں تبدیل ہو رہا ہے ،