بھٹکل: سونارکیری رہائشی اسکول کو کوویڈ-19سینٹر میں تبدیل کرنے پر آسارکیری اور سونارکیری کے عوام کا احتجاج

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st July 2020, 1:25 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 30/ جون (ایس او نیوز) یہاں سونارکیری میں واقع  سرکاری رہائشی اسکول کو کوویڈ۔19 سینٹر میں تبدیل کرنے پر  آسارکیری اور سونارکیری کے عوام نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ  رہائشی علاقے میں واقع اس اسکول میں کورونا کے  مریضوں کو  نہ رکھا جائے۔ 

جب ایمبولینس کے ذریعے کورونا سے متاثرہ لوگوں کو  یہاں لایا جارہاتھا تو عین اُسی وقت سینکڑوں لوگ اسکول کے باہر جمع ہوگئے علاقہ کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے آسارکیری کے کرشنا نائک اور وینکٹیش نائک نے  موقع پر پہنچے تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر اور اسسٹنٹ ایس پی کو بتایا کہ یہ  رہائشی علاقہ ہے، اس اسکول کے اطراف میں سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں اور شہر کے عین درمیان میں واقع ہے، لہٰذا یہاں کورونا کے مریضوں کو نہ رکھا جائے، ان لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ  جب اس اسکول کو کورنٹائن سینٹر میں تبدیل کیا جارہا  تھا تو اُس وقت بھی ہم نے  آواز بلند کی تھی اور یہاں کورنٹائن نہ کرنے کی درخواست کی تھی، مگر اب کورونا پوزیٹیو مریضوں کو رکھا جارہا ہے  جو ہرگز قابل قبول نہیں، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اسکول کے باہر کوئی پولس والا نہیں رہتا،  جو لوگ یہاں کورنٹائن میں تھے، اُن سے ملنے کے لئے اُن کے رشتہ دار آتے رہتے تھے  جن پر  کسی طرح کی کوئی روک نہیں تھی، اب کورونا پوزیٹیو لوگوں کو یہاں رکھا جارہا ہے تو یہاں بھی آنے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا جس سے علاقہ میں کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت اور اسسٹنٹ ایس پی مسٹر نکھل نے اس موقع پر  احتجاجیوں کو یقین دلایا کہ وہ  ہرممکن حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں گے، یہاں پولس کی پوری بس  ہی لگادیں گے اور کسی کوبھی اندر جانے یا اندر والوں کو باہر آنے نہیں دیا جائے گا۔ اے سی مسٹر بھرت نے بتایا کہ  یہاں کورونا کے صرف اُن لوگوں کو رکھا جارہا ہے جن میں کورونا کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی، اگر کسی میں کوئی علامت پائی گئی تو انہیں فوری سرکاری اسپتال اور ضرورت پڑنے پر کاروار  ضلع اسپتال روانہ کیا جاسکتا ہے۔ 

جب یہاں احتجاجیوں اور تعلقہ انتظامیہ کے آفسران کے ساتھ بات چیت جاری تھی تو وہیں  کورونا سے متاثرہ لوگوں کو لے کر ایمبولنس اسکول کے  باہر ہی کھڑی تھی، کافی دیر کے انتظار کے بعد انتظامیہ جب احتجاجیوں کو  راضی کرانے میں کامیاب ہوئے تب  ایمبولنس کو اسکول کے کمپاونڈ کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل سے 200 سے زائد تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ؛ 16 کی رپورٹ پوزیٹیو آنے کی خبر

حال ہی میں بھٹکل میں   کورونا کے  جو تازہ معاملات سامنے آئے ہیں، اُس  میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  اب تک 184 لوگوں کے نمونے جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں جس میں سے بعض کی رپورٹ آچکی ہیں، اور بعض کی رپورٹس شام تک    آنے کی توقع ہے۔