پنٹاگان نے شام میں ترکی کے ساتھ فضائی رابطہ کاری روک دی

Source: S.O. News Service | Published on 8th October 2019, 6:05 PM | عالمی خبریں |

دبئی 8اکتوبر (آئی این ایس انڈیا)امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے ایک اعلان کے مطابق مشترکہ فضائی آپریشنز کے مرکز نے ترکی کو شام میں فضائی مشن کی ترتیب سے خارج کر دیا ہے۔پیر کے روز ایک اخبار بیان میں امریکی وزارت دفاع کی ترجمان کارلا گلیسن نے کہا کہ مذکورہ مرکز نے ترکی کو فضائی نگرانی سے متعلق معلومات کی فراہمی روک دی ہے۔گلیسن نے واضح کیا کہ تکنیکی طور پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ترکی کے طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی ہے مگر فضائی مشن کی ترتیب سے ایک فضائی میکانزم کو خارج کیے جانے پر رابطہ کاری کے بغیر کسی فضائی حدود میں پرواز تقریبا ناممکن ہے۔اس سے قبل پنٹاگان یہ وضاحت کر چکا ہے کہ امریکا نے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی طے شدہ فوجی کارروائی کی توثیق نہیں کی ہے اور امریکی فوج کسی بھی طرح اس کی حمایت نہیں کرتی ہے۔پنٹاگان کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ دفاع ترکی پر یہ واضح کرتا ہے اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ہم شمالی شام میں ترک آپریشن کی توثیق نہیں کرتے۔ امریکا کی مسلح افواج اس کی حمایت کریں گی اور نہ وہ اس طرح کی کسی کارروائی میں شریک ہوں گی۔ترجمان کے بقول امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف آرمی جنرل مارک میلے نے اپنے ترک ہم منصب کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ترکی کے یک طرفہ اقدامات سے اس کے اپنے لیے ہی خطرات پیدا ہوں گے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں: امریکی اہلکار 

امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار نے دئے گئے خصوصی بیان میں باور کرایا ہے کہ ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گی۔ذمے دار کا کہنا تھا کہ اب ہمارا مقصد شام میں فائر بندی تک پہنچنا ہے۔