گہلوت کو فی الحال راحت: بی ایس پی سے کانگریس میں گئے ممبران اسمبلی کے خلاف ہائی کورٹ نے نہیں کی کوئی کارروائی

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 6th August 2020, 9:25 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،06 /اگست (آئی این ایس انڈیا)راجستھان ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے آج بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ممبران اسمبلی کے معاملے کو سنگل بنچ کے پاس واپس بھجوا دیا۔ سنگل بنچ میں بی ایس پی کی درخواست کی سماعت کی جارہی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بی ایس پی کے ممبران اسمبلی کے انضمام پر روک لگائی جائے۔ اب سنگل بنچ 11 اگست کو فیصلہ کرے گا کہ کیا کانگریس میں بی ایس پی کے ممبران اسمبلی کے انضمام پر حکم جاری کیا جائے یا نہیں۔

اس کے ساتھ ہی ڈویژن بینچ نے ہدایت کی ہے کہ بی ایس پی کے سابق ایم ایل اے کو اخباروں کے توسط سے نوٹس بھیجا جائے، اور اگر وہ ریسارٹ میں قیام پذیر ہیں تو انہیں متعلقہ ضلع کے ایس پی کے توسط سے نوٹس کے ذریعہ مطلع کیا جائے۔دراصل راجستھان اسمبلی انتخابات کے بعد بی ایس پی نے اپنے 6 ایم ایل اے کے ساتھ کانگریس کی حمایت کی تھی۔ یہ ایم ایل اے بعد میں کانگریس میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی کے ایم ایل اے نے اس کے خلاف اسپیکر سے شکایت کی اور نااہلی کے لئے ان ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وہیں اب بی ایس پی کا کہنا ہے کہ اشوک گہلوت نے اپنے ایم ایل اے کو اپنی پارٹی میں شامل کیا ہے۔ منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ راجستھان اسمبلی انتخابات کے بعد بی ایس پی نے اپنے 6 ایم ایل اے کے ساتھ کانگریس کی حمایت کی۔ بدقسمتی سے سی ایم گہلوت نے غیر قانونی طور پر بی ایس پی کے ایم ایل اے کو بی ایس پی کو نقصان پہنچانے کے لیے کانگریس میں شامل کیا۔مایاوتی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کی بات بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی پہلے بھی عدالت جاسکتی ہے، لیکن ہم کانگریس اور سی ایم اشوک گہلوت کو سبق سکھانے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اب ہم نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اس معاملے کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے۔ ہم سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی-نتیش قسم کسانوں کی کھاتے ہیں اور دوستی سرمایہ داروں سے نبھاتے ہیں: کانگریس

کانگریس جنرل سکریٹری اور پارٹی کے میڈیا سیل انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعرات کو پٹنہ میں زرعی بلوں کو لے کر مرکزی حکومت اور حکومت بہار کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے کہا کہ مودی جی اور نتیش بابو قسم کسانوں کی کھاتے ہیں اور دوستی مٹھی بھر سرمایہ داروں سے نبھاتے ہیں۔