فضول ہے یہ بحث کہ لاک ڈاؤن کب لگنا چاہئے! حالات انتہائی خراب

Source: S.O. News Service | Published on 21st April 2021, 5:01 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 21؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) سمجھ نہیں آ رہا کہ کورونا وباکو روکنے کے لئے کس بات کو مانا جائے اور کس کو نہیں! کبھی اس وبا کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن اتنا ضروری ہو جاتا ہے کہ اگر ملک میں چند سو کیسز بھی ہوں تو لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جاتا ہے اور اس بات کا بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ مہاجر مزدوروں کا کیا حال ہوگا؟ ان پر کیا گزرے گی؟ بغیر کسی سواری کے وہ اپنی منزل پر کیسے پہنچیں گے؟ راستے میں بیمار ہو گئے تو کیا ہوگا؟ پیدل ہی اپنے گاؤن کے لئے نکل جانے والے کئی لوگوں کو ریل کی پٹری کھا گئی، کچھ کو سڑک نے ڈس لیا اور جو گھر پہنچے ان کے پاس خوفناک یادوں کے علاوہ کچھ باقی نہیں تھا!

یہ وہ لاک ڈاؤن تھا جس کو رفتہ رفتہ لگایا جا سکتا تھا کیونکہ اس وقت وبا اتنی تیزی سے پھیلی نہیں تھی اور اس میں ان غریبوں کی مدد بھی کی جا سکتی تھی اور ان کو حفاظت کے ساتھ ان کے گھر تک بھی پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس وقت فیصلہ مرکز نے لیا تھا اس لئے اس میں کسی خامی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو آخری ہتھیار کے طور پر ہی استعمال کیا جائے کیونکہ آج کیسز کی تعداد اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ریاستوں نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے خود رات کا کرفیو، ویک اینڈ کرفیو اور کچھ دنوں کے لئے کچھ ضروری سہولیات کے ساتھ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

میرے خیال سے یہ بحث ہی فضول ہے کہ اس وقت لاک ڈاؤن لگایا جائے یا نہیں کیونکہ وبا کے کیسز اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ اس کی چین کو توڑنے یا اس کی رفتار کو کم کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اس وقت یہ بھی کہنا غلط ہوگا کہ ملک کی معیشت کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے بچنا ضروری ہے کیونکہ معاشی سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہیں اور اس وقت عوام کی صحت ترجیح ہونی چاہئے۔ اتر پردیش حکومت چاہے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے اس پر عمل درآمد پر روک لگوا دے لیکن اب یہ ضروری لگ رہا ہے۔ انتخابی مہم کے تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر مرکز اس کا اعلان نہیں کر پائی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں تھی! موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ لاک ڈاؤن لگایا جائے لیکن اس کے ساتھ حکومتوں کو کئی اور اہم اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پہلی لہر کو پار کرنے یا برداشت کرنے کی وجہ سے خود کو جو شیر سمجھنے لگے تھے ان کو وبا کی دوسری لہر نے بتا دیا کہ شیر وہ نہیں بلکہ وبا ہے اور اب سب ڈرے سہمے گھروں میں بیماری اور بیماری سے ہونے والی اموات کی خبریں سن رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ حکومتوں نے پہلی لہر کی شدت میں کمی آنے کے بعد کوئی تیاری نہیں کی۔ طبی ڈھانچہ ویسے کا ویسا ہی رہا جس کا خمیازہ اب سب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آکسیجن اور اسپتال میں بستروں کی کمی سے ہر خاندان متاثر ہوا ہے۔ مزدور کیجریوال کی ’میں ہوں نا‘ پر بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وہ ایک سال بعد پھر خوف کے سائے میں گھروں کی جانب گامزن ہیں۔

آج ہم غیر ملکی کے ٹیکوں کو اجازت دے رہے ہیں، یہ کام پہلے کیا جا سکتا تھا۔ اگر ہم یہ کام پہلے کرتے تو ان کمپنیوں سے اپنی شرطیں منوانے میں آسانی ہوتی لیکن آج ہماری ضرورت ہے اس لئے ہمیں اپنی نہیں انکی شرائط ماننی پڑیں گی۔ ساتھ ہی ان کی دستیابی میں بھی تاخیر ہوگی۔ اب بھی حکومت کو دور اندیشی سے کام لینے کی ضرورت ہے، جیسے ہمیں تالی، تھالی یا 9 تاریخ کی رات کو 9 بجے چراغاں جیسے کام کرنے کی ضرورت نہیں تھی ویسے ہی کمیٹیوں اور بال متروں کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے سماج میں نئی نوجوان نسل خود کو حکومت سمجھنے لگے گی اور وہ گھر میں اور سماج میں خودکو بڑا پیش کرنے لگیں گے، جس سے سماج کا تانا بانا بکھر جائے گا۔ حکومت کو خود آگے آ کر قیادت کرنی چاہئے۔ اس کے پاس قوانین نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی موجود ہیں اور بیداری پیدا کرنے والے ادارہ بھی موجود ہیں۔ وبا کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ انتہائی خوفناک ہیں اس لئے اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کو سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کو اس وبا سے نجات دلانے کے لئے متحد ہو کر کام کرنا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی پولیس کا شری نیواس بی وی سے پوچھ گچھ کرنا سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی جنرل سکریٹری کے ایچ عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں دہلی میں کوویڈ وبائی مرض سے متعلق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے انڈین یوتھ کانگریس کے صدر شری نیواس بی وی سے دہلی پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ کا سخت نوٹس  ...

کورونا کا خاتمہ جولائی تک نہیں ہوگا: ایکسپرٹ

جس طرح کورونا کے نئے معاملوں کی تعداد میں کمی درج ہو رہی ہے اس سے یہ امید بنی ہے کہ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کا خاتمہ جلد ہو جائے گا لیکن وبائی بیماریوں کے ماہر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ابھی کچھ ریاستوں میں کورونا کے کیس کم ہوتے نظر آ رہے ہوں لیکن دوسری لہر کا ...

سادگی کے ساتھ عید منائیں اور چھوٹی جماعت کے ساتھ عید کی نماز ادا کریں ، سرکردہ مسلم رہنماوں کی مسلمانوں سے اپیل

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی ۔ جمعیت علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی سمیت دیگر سرکردہ علماء اور مسلم قائدین مسلمانوں نے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر احتیاط کریں اور مختصر جماعت ...

لاک ڈاؤن پر ہو سختی سے عمل: اشوک گہلوت

راجستھان میں عالمی وبا کورونا کی دوسری لہر کی چین توڑنے کے لئے آج صبح 5بجے سے لے کر 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا ہے۔ اس مدت کے دوران، ہنگامی اور ضروری خدمات، میڈیکل، دودھ اور دیگر ضروری خدمات کے لئے رعایت رہے گی۔

ساحلی کرناٹکا میں 'ٹاوکٹے' طوفان کی دستک ۔ محکمہ موسمیات نے جاری کیا 16 مئی تک ریڈ الرٹ

ساحلی کرناٹکا کی طرف  بڑھتے  'ٹاوکٹے' طوفان کے پیش نظرمحکمہ موسمیات نے 16مئی تک ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے مچھیروں اور عوام الناس کو دریا، سمندراورنشیبی و ساحلی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔

بھٹکل میں بڑھ رہے ہیں کورونا پوزیٹیو معاملات؛ آج ایک ہی دن 81 کی رپورٹ آئی پوزیٹو

بھٹکل سمیت ضلع اُترکنڑا میں  کورونا پوزیٹیو کے معاملات میں دن بدن اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس سے ذمہ داران میں تشویش پائی جارہی ہے۔ آج بدھ کو ایک ہی دن بھٹکل میں کورونا پوزیٹیو کے 81 معاملات سامنے آئے ہیں  جس کے ساتھ ہی  کورونا کی دوسری لہر میں بھٹکل میں پوزیٹیو معاملات کی تعداد ...

کورونا کا خاتمہ جولائی تک نہیں ہوگا: ایکسپرٹ

جس طرح کورونا کے نئے معاملوں کی تعداد میں کمی درج ہو رہی ہے اس سے یہ امید بنی ہے کہ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کا خاتمہ جلد ہو جائے گا لیکن وبائی بیماریوں کے ماہر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ابھی کچھ ریاستوں میں کورونا کے کیس کم ہوتے نظر آ رہے ہوں لیکن دوسری لہر کا ...