کشمیر میں ہندوستان بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے:پاکستان

Source: S.O. News Service | Published on 11th September 2019, 11:25 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

کرفیو ہٹاکرحالات معمول پر لانے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے پاکستان کے وزیرخارجہ محمودقریشی کی درخواست

نئی دہلی/جنیوا،11؍ ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ہندوستان اور پاکستان نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل (یواین ایچ آر سی) کے جاری سیشن میں آج جموں وکشمیر کے سلسلے میں اپنا اپنا موقف پیش کیا -47 رکن ممالک کے انسانی حقوق کی کونسل کے اہم سیشن کیلئے اعلیٰ سطحی وفد پہلے ہی جنیوا پہنچ چکا ہے - مشاہدین کے مطابق پاکستان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی جانب کونسل کی توجہ مبذول کروائی - دوسری جانب جموں وکشمیر سے دفعہ 370 اور 35 کو ہٹائے جانے کے مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف تجویز لانے کے لئے پاکستان کی جانب سے دباؤ بنائے جانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے سلسلے میں ہندوستان نے دوست ممالک سے تعاون چاہا-وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں یہاں ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آیا ہوں جن کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو ہندوستان روند رہا ہے -انہوں نے کہا کہ ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں -وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو ایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے گزشتہ 6 ہفتے سے عملی طور پر قید کردیا گیا ہے-انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں ظلم وستم کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور پہلے سے موجود 7 لاکھ فوج کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے -انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 6 ہفتوں سے ہندوستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی اشیائے ضروریات اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں، دکانوں پرسامان فراہم نہ ہونے سے اشیا کی قلت ہوچکی ہے-وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی قلت ہے، ہندوستانی فواج کے بلاامتیاز اور براہ راست بہیمانہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد تک رسائی میسر نہیں -انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت 6 ہفتے سے مسلسل گھروں میں نظر بند اور قید ہے، ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے-وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت 6 ہزار سے زائد افراد، (جن میں سیاسی وسماجی کارکنان، طالب علم اور پروفیشنلز شامل ہیں) کو گرفتار کیا گیا ہے؟ جبکہ ان میں سے بیشتر افراد کو جبری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اور جموں وکشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں ہندوستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا گیا- انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صرف میں تنہا نہیں ہوں جو مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے بدترین ظلم اور انسانی حقوق کی کھلی پامالیوں کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرارہا ہوں، اس پر دنیا بول رہی ہے، غیرجانبدار، ممتاز عالمی میڈیا اور غیرجانبدار مبصرین جموں وکشمیر کے عوام پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم کی مسلسل رپورٹنگ کررہے ہیں -اس موقع پر انہوں نے بی بی سی کی 29 اگست کی رپورٹ جبکہ دی انڈیپنڈنٹ کی 2 ستمبرکی رپورٹ کا حوالہ دیا جن میں ہندوستانی افواج کی جانب سے کشمیر کے نہتے عوام سے روا رکھے جانے والے انسانیت سوز سلوک کاذکر کیا گیا-وزیر خارجہ نے ایک اور رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں پیلٹ گنز کے استعمال سے نشانہ بننے والے افراد کے بارے میں حقائق بیان کئے گئے تھے، جن کا ہندوستانی فوج کشمیریوں کے خلاف اندھادھند استعمال کررہی ہے، جس سے بڑی تعداد میں بے گناہ کشمیری زندگی بھر کیلئے بصارت سے محروم ہوچکے ہیں -ان کا کہنا تھا کہ اب یہ زخمی اس خوف سے اسپتال جانے سے ہچکچا رہے ہیں کہ قابض ہندوستانی افواج ان کے خلاف انتقامی کارروائی کریں گی اور انہیں وہاں سے گرفتار کرلیا جائے گا اور مزید تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا-وزیر خارجہ نے کہا کہ میں کسی گزرے زمانے یا قرون اولیٰ کی بات نہیں کررہا بلکہ یہ ظلم و ستم آج کے دن ہورہا ہے، یعنی اکیسیویں صدی میں جاری ہے-ان کا کہنا تھا کہ یقیناََ مجھے انسانی حقوق کونسل کو یہ یاد کروانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ متعدد عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جس پر ہندوستان نے بھی دستخط کررکھے ہیں -شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان جابرانہ اور ظالمانہ تسلط میں رہنے والے مظلوموں کی سچی داستان ہے جسے دنیا سے چھپانے کیلئے ہندوستان مضطرب ہے، یہ دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت’کا حقیقی چہرہ ہے، یہ اس ملک کا طرز عمل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا آرزو مند ہے-

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ظلم و تباہی کی جڑ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے مسلسل انکار ہے، گزشتہ7 دہائیوں سے چلا آنے والا یہ تنازع انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو موجودہ ہندوستانی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے مزید سنگین تر ہوگیا ہے-ان کا کہنا تھا کہ یہ غاصبانہ اقدام ہندوستان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے منشور میں واضح درج ہے کہ بندوق کے زور پر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے-انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا 5 اگست 2019 کا ہندوستان کا یک طرفہ اور غیرقانونی اقدام غیر آئینی ہے کیونکہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلمہ تنازع تسلیم کررکھا ہے، ان غیرقانونی تبدیلیوں کی وجہ سے خود ہندوستان کے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر پر غاصبانہ اور غیرقانونی قبضہ کررکھا ہے-شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات چوتھے جینیوا کنونشن کے منافی ہیں جو مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی اور وہاں کسی دوسری جگہ سے آبادی کو لاکر بسانے کے عمل کی ممانعت کرتا ہے-

یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ یہ ہندوستانی دعویٰ قطعی غلط ہے کہ یہ اقدامات اس کا‘اندرونی معاملہ’ہے-انہوں نے مزید کہا کہ‘اصل حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر گزشتہ 70 سال سے زائد عرصہ سے ایک مسلمہ تنازع کی صورت میں موجود ہے جبکہ 16 اگست کو جموں و کشمیر کے تنازعے پر ہونے والا سلامتی کونسل کا اجلاس اس امر کی تصدیق ہے-ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کونسل کے موضوع گفتگو میں محض‘ایک ملک کی مخصوص صورتحال’نہیں بلکہ عالمی قانون، ایک مقبوضہ اور متنازع خطے کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتا ہے، اس مقبوضہ خطے کی صورتحال کا براہ راست عالمی تشویش سے تعلق ہے جبکہ یہ ہندوستان کا نہ تو اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے-وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت بدترین صورتحال سے نبردآزما ہیں، کچھ نے کہا ہے کہ‘کشمیر قبرستان کی طرح خاموش ہے’اور کچھ کے مطابق یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے-انہوں نے کہا کہ مجھے وہاں نسل کشی کے بہیمانہ اورانسانیت سوز واقعات بیان کرتے ہوئے جھرجھری آرہی ہے لیکن اس کے باوجود میں مجبور ہوں کہ یہ حقائق لازماً آپ کی خدمت میں پیش کروں -ان کا کہنا تھا کہ نسل کشی سے متعلق کنونشن کے حوالے سے مقبوضہ خطے میں کشمیری عوام ایک الگ قومی، نسلی اور مذہبی گروپ ہے، جن کی زندگیوں، عزت وآبرو اور بقا کو قاتلوں، عورتوں سے نفرت کرنے اور دیگر عقائد کے ماننے والوں سے شدید نفرت رکھنے والی حکومت سے سنگین خطرات لاحق ہیں -انہوں نے کہا کہ امریکہ میں قائم ایک عالمی شہری تنظیم مقبوضہ جموں وکشمیر میں جینوسائیڈ الرٹ پہلے ہی جاری کرچکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں صورتحال نسل کشی کے 10 درجے پہلے ہی عبور کرچکی ہے-

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متعدد دوطرفہ اور کثیرالطرفہ طریقہ ہائے کار تجویز کئے ہیں جو ہندوستان کے خودساختہ دعووں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں -ہم نے حال ہی میں یہ تجویز بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے مبصرین کی تعداد دوگنا کردی جائے، جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کریں لیکن ہندوستان ان تجاویز کو مسترد کررہا ہے-انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ ہندوستان ایک مرتبہ پھر‘فالس فلیگ’آپریشنز کرے گا اور مبینہ طور پر دہشت گردی کے عفریت کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے اور اس کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ پاکستان پر حملہ بھی کرسکتا ہے-شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کا ایک ہندوستانی حربہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں ہونے والے معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں ہیں، جہاں مسلسل آزاد کشمیر میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، علاوہ ازیں ہندوستان نے تمام عالمی انسانی بنیادی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے یہاں کلسٹر بم اور بھاری ہتھیار استعمال کئے ہیں، اس عمل فوری بند ہونا چاہئے-شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہندوستانی جارحانہ اور ڈریکونین اقدامات کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے حامل جنوبی ایشیا اور اس سے بڑھ کر دنیا کے امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسلسل اس صورتحال کا احساس دلایا جارہا ہے-انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے خطے میں وقوع پذیر صورتحال پر سلامتی کونسل کے ارکان کی مشاورت کا خیرمقدم کیا ہے، سلامتی کونسل جموں وکشمیر کے تنازع سے جڑے امن وسلامتی کے پہلووں سے آگاہ ہے لیکن اس حوالے سے انسانی حقوق کونسل کو ایک بڑا کردار ادا کرنا پڑے گا اور اسے ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانے ہوں گے-

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔