پاکستان میں جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن: فیصلہ کن کارروائی یا ریاکاری ؟ لبرل مغرب نواز مبصرین کو پھر بھی شک !

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th March 2019, 7:09 PM | عالمی خبریں |

اسلام آباد 6مارچ ( آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز ) پاکستان میں جیش محمد اور دیگر مبینہ جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاون شروع کر دیا گیا ہے۔ کئی لوگوں کے خیال میں یہ گزشتہ ادوار میں کی گئی ایسی کارروائیوں سے مختلف ہے لیکن ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاون محض ’دکھاوا‘ ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی مولانا عبدالرؤف اور مسود اظہر کے بیٹے حماد اظہر سمیت مجموعی طور پر چوالیس افراد کو حفاظتی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جیش محمد کا مرکز اور مسجد، جو بہاولپور میں قائم ہے، پہلے ہی مقامی انتظامیہ کے قبضے میں ہے۔ امکان ہے کہ مولانا مسعود اظہر کو بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران سامنے آنے کا امکان ہے۔

بہاولپور سے ذرائع نے بتایا کہ مسعود اظہر بیمار ہیں اور ممکنہ طور پر اسی لیے حکومت نے ان کو ابھی تک حراست میں نہیں لیا۔پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ در اصل ان کارروائیوں کی منظوری دسمبر سن 2018 میں ہی دے دی گئی تھی۔ اس کے برعکس ناقدین کا خیال ہے کہ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ نے حکومت کو مجبور کیا کہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پلوامہ حملے کے بعد امریکہ سمیت کئی ملکوں نے اسلام آباد حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسی تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے مستقبل میں ہونے والے اجلاسوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھی اسلام آباد کو ایسے اقدامات کرنے ہی تھے۔پاکستان نے آرمی پبلک اسکول پر سن 2014 میں ہونے والے حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا، جس کا مرکزی نقطہ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف کارروائی تھا۔ لیکن کئی سیاستدانوں اور ناقدین کے خیال میں اس پروگرام پر درست انداز سے عمل نہیں کیا گیا۔ ماضی میں جماعت الدعوہ کے حافظ سعید کو بھی نظر بند کیا گیا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے متعدد سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائیاں ’بے معنی‘ ہیں۔پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کے خیال میں ایسے عناصر کے خلاف حقیقی معنوں میں کارروائی کبھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں مصنوعی ہیں۔ جب تک ریاست اپنی پالیسی نہیں بدلے گی، ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا گیا، چین میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 56 ہوگئیں ؛ چین سے دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے کا خدشہ

چین کی حکومت نے کہا ہے کہ 25 جنوری تک 1975 افراد کے 'کورونا' وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہوئی ہے اور اس وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔دوسری طرف 'کورونا' وائرس کو عالمی وباء قرار دیتے ہوئیاس کے انسداد کے لیے عالمی سطح پر مزید اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔یہ وائرس گذشتہ ...

ترکی میں زلزلے کے باعث ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری طاقت ور زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی، 1400 زخمی

ترکی میں جمعہ کی شام آنے والیطاقت ور زلزلے کے نتیجے میں اب تک 29 افراد جاں بحق جب کہ 1400 زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیاداوں پر امدادی کام جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ مشرقی ترکی کے علاقوں میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے کیباعث دسیوں افراد لاپتا ...

آپ کا شکریہ... ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق ایران کی مشروط پیش کش مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حالیہ تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ایرانی وزیر ...

امریکی ڈیموکریٹس پرصدر ٹرمپ کے خلاف من گھڑت معلومات فراہم کرنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ری پبلیکنز کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان معلومات کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے رکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا ہے کہ 'ڈیموکریٹس نے صدر کے ...

اردغان کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں ...